معذور کا احرام میں لاسٹک استعمال کرنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جس شخص کا ایک ہاتھ نہ ہو تو کیا وہ احرام میں لاسٹک استعمال کر سکتا ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ ایسا معذور شخص جس کا دایاں ہاتھ نہ ہو اور وہ حج یا عمرے کے لئے جائے، تو اسے احرام میں لاسٹک لگوانے کی اجازت ہے؟ کیونکہ اِس کے بغیر اُسے سخت آزمائش ہوگی، ایک تو ابتداءً احرام باندھنے میں مشکل ہوگی، پھر حالت احرام میں قضائے حاجت کے لئے جائے گا تو دوبارہ سے احرام باندھنے میں الگ مسئلہ ہوگا، نیز حج و عمرہ کے مشاغل اور وضو کے دوران احرام کے کھل جانے کا بھی اندیشہ رہے گا، لہذا اس کے متعلق شرعی رہنمائی فرمادیں۔
واضح رہے کہ شخصِ مذکور غیر شادی شدہ ہے، اس کی بیوی نہیں جو احرام کے معاملات میں اس کی مدد کرسکے۔
جواب
حالت ِاحرام میں”لُبسِ مَخِیط بَر وَجہِ مُعتَاد“یعنی معتاد طریقے کے مطابق سلا ہوا لباس پہننا ممنوع ہے، اور احرام کی چادر میں لاسٹک لگوانا کہ جس کے سبب چادر جسم پر از خود ٹھہر جائے اور اس کی نگہداشت کی ضرورت نہ رہے، یہ بھی لُبسِ مَخِیط میں داخل ہے، لہذا عام حالات میں چادر میں لاسٹک لگوانے کی اجازت نہیں، ہاں عُذر کی صورت مستثنی ہے۔
اور سوال میں بیان کردہ صورت میں مختلف طرح کے لوگوں کے حوالے سے مختلف حکم ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ایک ہاتھ سے معذور ہونے کے باوجود بھی اپنے تمام کام نہایت مہارت و آسانی سے کرلیتے ہیں، جیسا کہ اس طرح کی ویڈیوز آتی رہتی ہیں، ایسے لوگوں کے لئے ایک ہاتھ سے معذور ہونا، حالتِ احرام میں سلاہوا لباس پہننے کے لئے عذر نہیں ہوگا کہ رخصت کا سبب مشقت ہے اور وہ یہاں مفقود۔
دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو ایک ہاتھ سے معذور ہوں تو ان کے لئے بغیر لاسٹک والی چادر پہننے میں سخت آزمائش ہے، اور عملاً ایسی کوئی صورت بھی نظر نہیں آتی جس میں آزمائش کے بغیر ستر کے ظاہر ہونے کے اندیشے کو ختم کیا جاسکے، ایسوں کے حق میں عذر ثابت ہے لیکن اگر کوئی صاحبِ رخصت شخص بھی ہو تو اسے اولاً ایسی کوئی صورت اختیار کرکے دیکھنی چاہئے جس میں کفارہ لازم نہ آئے مثلا سفر حج و عمرہ میں روانگی سے پہلے گھر میں احرام پہن کر اس میں سیفٹی پن یا بیلٹ وغیرہ لگا کر چل پھر کر دیکھے، یونہی وضو اور استنجاء بھی کر کے دیکھے، اگر اس میں آزمائش نہیں ہوتی تو فبہا، ورنہ عذر کی وجہ سے تہبند میں لاسٹک لگوانے کی رخصت ہوگی، لیکن اوپر والی چادر میں پھر بھی نہیں لگواسکتا، کیونکہ ستر کی ضرورت تہبند والی چادر سے ہی پوری ہوجائے گی۔
واضح رہے کہ مذکورہ صورت میں رخصت ہونے کا معنی یہ ہے کہ سلے ہوئے لباس پہننے کا گناہ نہیں ہوگا، رہا کفارہ! تو وہ بہر حال لازم ہوگا۔
کفارے کی تفصیل:
(1) 12 گھنٹے یا اس سے زائد لاسٹک لگی چادر پہننے کی صورت میں ایک دَم لازم ہوگا، جانی (جس نے جنایت کا ارتکاب کیا)چاہے تو دم دے دے یا درج ذیل صورتوں میں سے کوئی ایک صورت اختیار کرلے:
1: چھ مختلف مساکین کو ایک ایک صدقہ فطرادا کردے۔
2: چھ مختلف مساکین کو دو وقت پیٹ بھر کھانا کھلادے۔
3: یا پھر تین روزے رکھ لے۔
(2) اگر بارہ گھنٹے سے کم وقت مذکورہ چادر پہنی، تو اس صورت میں ایک صدقہ لازم ہوگا، اگر چاہے تو اس کا عوض دے دے، عوض سے مراد ایک روزہ رکھنا ہے۔
مَردوں کے لئے حالت احرام میں لُبس مخیط کی ممانعت اور لاسٹک لگوانے کا بھی اس میں داخل ہونا:
حالت احرام میں لبس مخیط ممنوع ہے، نیز صورۃ اور حکما مخیط کا معنی بیان کرتے ہوئے علامہ شامی علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں:
أن المراد المنع عن لبس المخيط وفي البحر عن مناسك ابن أمير حاج الحلبي أن ضابطه لبس كل شيء معمول على قدر البدن أو بعضه بحيث يحيط به بخياطة أو تلزيق بعضه ببعض أو غيرهما و يستمسك عليه بنفس لبس مثله
مراد لبس مخیط کی ممانعت ہے، بحر میں مناسک ابن امیر الحاج الحلبی کے حوالے سے ہے: لبس مخیط کا ضابطہ یہ ہے کہ معمول کے مطابق بدن یا جزو بدن پر ہر ایسی چیز کا پہننا جو بدن یا جزو بدن کو گھیر لے بایں طور کہ یہ گھیر نا خیاطت کے ذریعے ہو یا اس کے بعض حصے کو دوسرے حصے سے چپکانے یا کسی اور طریقے سے، اور وہ پہننے سے ہی جسم پر از خود ٹھہر جائے۔ (رد المحتار، ج 03، ص 571، دار المعرفہ)
حکما مخیط کی ایک صورت طیلسان چادر میں بٹن لگوانا بھی ہے، اس کو بھی فقہائے عظام نے مخیط میں داخل فرمایا کیونکہ طیلسان چادر میں بٹن لگوالینے کی صورت میں چادر سلے ہوئے کپڑے کی طرح جسم پر از خود ٹھہرجائے گی اور اس کی نگہداشت کی ضرورت نہیں رہے گی، اور یہی علت چادروں میں لاسٹک لگوانے کی صورت میں بھی موجود ہے، لہٰذا یہی حکم یہاں بھی ہوگا، خواہ لاسٹک سلائی کے ذریعے لگوائے یا چپکا کر، بہرصورت مخیط میں داخل ہے۔
فتاوی ولوالجی پھر شلبی علی التبیین میں ہے،
و اللفظ للشلبی: لاباس بان یلبس المحرم الطیلسان و لایزرہ علیہ فان زرہ یوما فعلیہ دم لانہ صار منتفعا بہ انتفاع المخیط
محرم کے لئے طیلسان چادر پہننے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اسے بٹن نہ لگائے، پھر اگر پورا دن اسے بٹن لگا رکھا، تو اس پر دم لازم ہوگا اس لئے کہ اس نے سلے ہوئے کپڑے کی طرح اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔ (حاشیۃ الشلبی علی التبیین، ج 02، ص 54، المطبعۃ الکبری الامیریہ)
مبسوط اور بدائع میں ہے،
و اللفظ للبدائع: و لا بأس أن يلبس الطيلسان؛ لأن الطيلسان ليس بمخيط، و لا يزره، كذا روي عن ابن عمر و عن ابن عباس أنه لا بأس به، و الصحيح قول ابن عمر لأن الزرة مخيط في نفسها، فإذا زره فقد اشتمل المخيط عليه فيمنع منه؛ و لأنه إذا زره لا يحتاج في حفظه إلى تكلف فأشبه لبس المخيط
طیلسان پہننے میں کوئی حرج نہیں اس لیے کہ طیلسان مخیط نہیں لیکن طیلسان کو بٹن نہ لگائے جیسا کہ عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس کے برخلاف حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ مروی ہے کہ بٹن لگانے میں کوئی حرج نہیں اور صحیح ابن عمر کا قول ہے اس لیے کہ بٹن لگانا فی نفسہٖ مخیط ہے پس جب محرم طیلسان پر بٹن لگائے تو اس پر مخیط کا اطلاق ہوگا، لہذا محرم کو اس سے روکا جائے گا کیونکہ جب بٹن لگا لیے تو اب وہ اس کی حفاظت میں کسی تکلف کا محتاج نہیں رہے گا پس یہ لبس محیط کے مشابہ ہو گیا۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج 02، ص 185، دار الكتب العلميہ)
مجبوری میں ستر عورت کی ضرورت کی وجہ سے سلے ہوئے لباس پہننے کی رخصت:
حالت احرام میں مردوں کے لئےسلا ہوا لباس پہننا ممنوع ہے، تاہم اگر بغیر سلے ہوئے لباس پر قدرت نہ ہو، تو ستر کی ضرورت کے پیش نظر شلوار پہننے کی بھی رخصت ہے، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
من لم يجد إزارا، فليلبس سراويل
جو تہبند نہ پائے وہ شلوار پہن لے۔ (سنن ترمذی، ج 02، ص 977، رقم: 2931، دار إحياء الكتب العربية)
البتہ کفارہ پھر بھی دینا ہوگا، کیونکہ احناف کے نزدیک جنایت خواہ عذر کی وجہ سےہو، بہر حال کفارے کا سبب ہے، چنانچہ مذکورہ حدیث پاک کے تحت مرأۃ المناجیح میں ہے: اس کا مطلب احناف کے یہاں یہ ہے کہ اگر تہبند نہ ہو تو پائجامہ چادر کی طرح لپیٹ لے اس میں فدیہ نہیں، اگر پائجامہ عادت کے مطابق پہنا تو دم یعنی قربانی دینا ہوگی۔ (مرأۃ المناجیح، ج 04، ص 184، نعیمی کتب خانہ گجرات)
التجريد للقدوری میں ہے:
و السراويل من المحظورات، فإذا ستر عورته به وجب الجزاء، و إن لم يقدر على غيره
احرام میں شلوار پہننا ممنوعات میں سے ہے، لہذا جب اس کے ذریعے ستر ڈھانپے گا تو کفارہ لازم ہوگا، اگرچہ دوسری چیز پر قادر نہ ہو۔ (التجرید للقدوری، ج 04، ص 1782، دار السلام – القاهرة)
اب قدرت نہ ہونا دو طرح کا ہوتا ہے، ایک حقیقی قدرت کا نہ ہونا کہ تہبند ملکیت میں نہ ہو، اورنہ ہی خرید یا مانگ سکتا ہو، اور دوسرا حکمی قدرت کا نہ ہونا کہ ازار تو موجود ہے، لیکن اس کے ذریعے ستر کرنے میں مشکل ہے، یہ بھی عذر کی ایک صورت ہے جیسا کہ عورتوں کو سلا ہوا لباس پہننے کی اجازت ہے کیونکہ ان کاپورا جسم ستر ہے اور ستر کے اتنے بڑے حصے کو بغیر سلے ہوئے لباس سے چھپانا متعذر ہے۔ یہی معاملہ معذور شخص کے لئے بغیر لاسٹک والی چادر پہننے میں بھی موجود ہے، کیونکہ لاسٹک کے بغیر اسے بھی ستر کرنے میں مشکل ہوگی، لہذا اس کے لئے بھی لاسٹک والی چادر پہننے کی اجازت ہوگی۔
علامہ کاسانی لکھتے ہیں:
فلأن بدنها عورة؛ وستر العورة بما ليس بمخيط متعذر فدعت الضرورة إلى لبس المخيط
عورت کا پورا جسم ستر ہے، اور بغیر سلے ہوئے کپڑے کے ذریعے پورے جسم کو ڈھانپنا متعذر ہے، لہذا سلا ہوا لباس پہننے کی ضرورت ہوئی۔ (بدائع الصنائع، ج 02، ص 186، دار الكتب العلمية)
جوہرہ میں ہے:
و لأن بدنها عورة و ستره بما ليس بمخيط يتعذر فلذلك جوز لها لبس المخيط
کیونکہ عورت کا جسم ستر ہے، اور بغیر سلے ہوئے کپڑے کے ذریعے پورے جسم کو ڈھانپنا متعذر ہے، اسی وجہ سے سلا ہوا لباس پہننے کی اجازت دی گئی۔ (جوھرۃ، ج 01، ص 152، المطبعة الخيرية)
کفارے کے حوالے سے تفصیلات:
عذر کی وجہ سے سلا ہوا لباس پہنا، جب بھی دم لازم ہے، نیزعذر کی وجہ سے ایک جگہ ضرورت تھی لیکن اس نے دوسری جگہ بھی پہن لیا، تو یہ دوسری جگہ پہننا جرم اختیاری شمار ہوگا، اس حوالے سے تبيين، بدائع، فتح باب العنایۃ اور فتاوی ہندیہ میں ہے،
و اللفظ للھندیۃ: و لو اضطر المحرم إلى لبس ثوب فلبس ثوبين فإن لبسهما على موضع الضرورة فعليه كفارة واحدة وهي كفارة الضرورة بأن اضطر إلى قميص واحد فلبس قميصين أو قميصا وجبة أو اضطر إلى القلنسوة فلبس قلنسوة وعمامة، وإن لبسهما على موضع الضرورة و غيره كما إذا اضطر إلى لبس العمامة أو القلنسوة فلبسهما مع القميص أو غير ذلك فعليه كفارتان كفارة الضرورة و كفارة الاختيار
اگر محرم کو ایک لباس پہننے کی ضرورت پیش آئی لیکن اس نے دو لباس پہن لئے، تو اگر ضرورت کی جگہ پر ہی پہنے بایں صورت کہ اسے ایک قمیص کی ضرورت تھی لیکن اس نے قمیص اور جبہ دونوں پہن لیے یا ٹوپی کی ضرورت تھی اور اس نے ٹوپی اور عمامہ دونوں پہن لیے، تو اس پر ایک ہی کفارہ جو کہ ضرورت کی صورت میں لازم ہوتا ہے، وہی لازم ہوگا، اور اگر ضرورت کی جگہ اور اس کے علاوہ دوسری جگہ بھی پہنا، جیسا کہ عمامہ یا ٹوپی کی ضرورت تھی لیکن ان کے ساتھ قمیص وغیرہ بھی پہن لی، تو اس پر دو کفارے ہیں ایک ضرورت کا دوسرا اختیار یعنی بلاضرورت کا۔ (الفتاوی الھندیۃ، ج 01، ص 242، دار الفکر)
سلا ہوا لباس پہننے سے کب دم اور کب صدقہ لازم ہوتا ہے؟ اس کی تفصیل کے حوالے سے بہار شریعت میں ہے: مُحرِم نے سِلا کپڑا چار پہر کامل پہنا تو دَم واجب ہے اور اس سے کم تو صدقہ اگرچہ تھوڑی دیر پہنا اور لگاتار کئی دن تک پہنے رہا جب بھی ایک ہی دَم واجب ہے ،جب کہ یہ لگا تار پہننا ایک طرح کا ہو یعنی عُذر سے یا بلا عذر۔ (بھار شریعت، ج 01، ح 06، ص 1167، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
جرم غیر اختیاری میں گناہ نہیں ہوتا، اس حوالے سے علامہ علی قاری علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:
المحرم إذا جنى عمدا بلا عذر، يجب الجزاء و الإثم، فلا بد من التوبة، و إن جنى بغير عمد أو بعذر، فعليه الجزاء دون الإثم
محرم جب کوئی جنایت جان بوجھ کر بلا عذر کرے تو اس پر کفارہ اور گناہ دونوں لازم ہوتے ہیں جس سے توبہ بھی لازم ہےاور اگر جنایت جان بوجھ کر نہ کرے یا کسی عذر کی وجہ سے کرے تو اس پر کفارہ ہے گناہ نہیں۔ (فتح باب العنایۃ، ج 01، ص 688، دار الأرقم بن أبي الأرقم، بيروت)
جرم غیر اختیاری میں کفارے کی تفصیل کے حوالے سے بہار شریعت میں ہے: جہاں دم کا حکم ہے وہ جرم اگر بیماری یا سخت گرمی یا شدید سردی یا زخم یا پھوڑے یا جوؤں کی سخت ایزا کے باعث ہوگا تو اُسے مجرم غیر اختیاری کہتے ہیں۔ اس میں اختیار ہوگا کہ دم کے بدلے چھ مسکینوں کو ایک ایک صدقہ دے دے یا دونوں وقت پیٹ بھر کھلائے یا تین روزے رکھ لے، اگر چھ صدقے ایک مسکین کو دیدیے یا تین یا سات مساکین پر تقسیم کر دیے تو کفارہ ادا نہ ہوگا بلکہ شرط یہ ہے کہ چھ مسکینوں کو دے اور افضل یہ ہے کہ حرم کے مساکین ہوں اور اگر اس میں صدقہ کا حکم ہے اور بمجبوری کیا تو اختیار ہوگا کہ صدقہ کے بدلے ایک روزہ رکھ لے۔ (بھار شریعت، ج 01، ح 06، ص 1162، مكتبة المدينه)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0487
تاریخ اجراء: 27 جمادی الأخری 1446ھ / 30 دسمبر 2024ء