تین انویسٹر اور ایک ورکنگ پارٹنر کے درمیان مضاربت کا کیا حکم ہے

 

تین انویسٹر  اور ایک ورکنگ پارٹنر کی مضاربت کا حکم

دارالافتاء اھلسنت عوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارےمیں ہم چار افراد مل کر کام کررہے ہیں جس میں تین افراد رقم ملائیں گے ہارڈوئیر کا کام کرنے کے لئے اور ایک بندہ کچھ بھی رقم نہیں ملائے گا لیکن کام سارا وہی کرے گا کیونکہ وہ اس میں ایکسپرٹ بھی ہے اور ہم تین افرادکچھ بھی کام نہیں کریں گےاور نفع ونقصان ہم سب کے درمیان  برابر  تقسیم ہوگا۔  کیا اس طرح کاروبار کرنا ہمارے لئے درست ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

ایک طرف سرمایہ ہو اور دوسری طرف محنت ہو اس طرح کاروبار کرنے کو شرعاً عقدِ مضاربت کہتے ہیں اورسوال میں بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق مضاربت کرنا، جائزو  درست ہےکیونکہ عقد ِ  مضاربت میں ایک مضارب اور ایک سے زیادہ رب المال یعنی انویسٹرز ہوسکتے ہیں، اسی طرح نفع بھی رب المال اور مضارب کے درمیان برابر طے کیا جاسکتا ہے ۔لیکن مضارب پرمطلقاً  نقصان کی شرط لگانا باطل ہے کہ مضارب فقط اپنی کوتاہی سے ہونے والے نقصان کا ذمہ دار ہوتا ہے البتہ  یہ ایسی شرط ہے جس سے مضاربت فاسد نہیں ہوتی ۔  لہٰذا اگر مضارب کی کوتاہی کے بغیر مضاربت کے سرمایہ میں کمی ہوتی ہے  تو پہلے اس کو نفع سے پورا کیا جائے گا اور اگر نفع سے بھی پورا نہ ہوتو انویسٹرز کے سرمایہ سے پورا ہوگا۔ پہلی صورت میں مضارب کا نقصان یہ ہوگا کہ اس کا نفع کم ہوگا اور دوسری صورت میں اس کو کچھ نہیں مل سکے گا اور اس کی محنت ضائع جائے گی لہٰذا ایک اعتبار سے مضارب بھی نقصان برداشت کرتا ہے۔

مجلۃ الاحکام العدلیہ میں مضاربت کی تعریف سے متعلق ہے :

 ”المضاربۃ نوع شرکۃ علی ان یکون راس المال من طرف والسعی والعمل من الطرف الآخر“

یعنی :مضاربت شرکت کی وہ قسم ہے جس میں ایک طرف سے سرمایہ ہوتا ہےاور دوسری طرف سے عمل و کوشش۔(مجلۃ الاحکام العدلیہ ،صفحہ 271،مطبوعہ کراچی )

عقدِ مضاربت میں ایک مضارب اور ایک سے زیاہ رب المال ہوسکتے ہیں، اس سے متعلق دررالحکام میں مجلۃ الاحکام کی عبارت  من طرف اور من الطرف الآخر کے تحت ہے :

” ویشمل ایضا ان یکون الطرف شخصا واحدا وان یکون الطرف الآخر ازید من ذلک “

یعنی :یہ اس بات کو بھی شامل ہے کہ (مضاربت میں) ایک طرف ایک شخص ہو اور دوسری طرف ایک سے زیادہ ہوں۔(دررالحکام شرح مجلۃ الاحکام ،جلد 3،صفحہ 425،دارالکتب العلمیہ بیروت)

مضاربت میں نقصان ہونے کی صورت میں مضارب پر ضمان نہیں ہوگا، اس سے متعلق ہدایہ میں ہے :

”وما ھلک من مال المضاربۃ فھو من الربح دون راس المال ۔۔۔۔ فان زاد الھالک علی الربح فلا ضمان علی المضارب“

یعنی:مضاربت کے مال سے جو ہلاک ہوگا وہ نفع سے پورا کیا جائے گا راس المال سے نہیں۔  ہاں اگر ہلاک ہونے والا مال نفع کے مقابلے میں زیادہ ہو تو مضارب پر کوئی ضمان نہیں ہوگا ۔(ہدایہ ،جلد 3،صفحہ 207،مطبوعہ بیروت )

مجمع الانہر میں ہے:

 ”کل شرط یوجب جہالۃ الربح یفسدھا وما لافلا ویبطل الشرط کشرط الوضیعۃ علی المضارب “

یعنی:ہر ایسی شرط جو نفع میں جہالت کا موجب بنے وہ مضاربت کو فاسد کردے گی  ورنہ مفسد  نہیں بلکہ خود شرط باطل ہوجائے گی جیساکہ مضارب پر نقصان کی شرط لگانا ۔(مجمع الانھر ،جلد 3،صفحہ 446،دار الکتب العلمیہ بیروت)

مضارب پر نقصان کی شرط لگانے سے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے :” مضارب کے ذمہ نقصان کی شرط باطل ہے وہ اپنی تعدی و دست درازی وتضییع کے سوا کسی نقصان کا ذمہ دار نہیں۔ جو نقصان واقع ہو سب صاحبِ مال کی طرف رہے گا۔ “( فتاوی رضویہ ،جلد 19،صفحہ 131،رضا فاؤنڈیشن لاہور )

نفع مضارب و رب المال کے درمیان برابر ہوسکتا ہے جیسا کہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : ”نفع دونوں کے مابین شائع ہو مثلاً  نصف نصف ۔“(بہار شریعت ،جلد 3،صفحہ 2،مکتبۃ المدینہ )

بہارِ شریعت میں ہے : ” اگر اس شرط سے نفع میں جہالت نہ ہو تو وہ شرط ہی فاسد ہے اور مضارَبت صحیح ہے مثلاً یہ کہ نقصان جو کچھ ہوگا وہ مضارِب کے ذمہ ہوگا یا دونوں کے ذمہ ڈالا جائے گا۔“   ( بہارشریعت،جلد 3،صفحہ 3،مکتبۃ المدینہ  )

مضاربت میں ہونے والا نقصان کیسے پورا کیا جائے گا؟  اس سے متعلق بہار شریعت میں ہے : ”مالِ مضاربت سے جو کچھ ہلاک اور ضائع ہوگاوہ نفع کی طرف شمار ہوگا، راس المال میں نقصانات کو نہیں شمار کیا جاسکتا۔۔۔ اگر نقصان اتنا ہوا کہ نفع اُس کو پورا نہیں کرسکتا۔۔۔تویہ نقصان راس المال میں ہوگا مضارِب سے کل یا نصف نہیں لے سکتا ۔(بہار شریعت ،جلد 3،صفحہ 19،مکتبۃ المدینہ، ملتقطا)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر:IEC-244

تاریخ اجراء:01محرم   1446ھ/08جولائی 2024ء