دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بغیر کاغذات کے بائیک خریدنا کیسا ؟قانونی طور بغیر کاغذات کے گاڑی چلانا یا استعمال کرنا ممنوع ہے بلکہ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار گاڑی کو بند بھی کر دیتے ہیں اور پھر قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
گاڑی اگر چوری وغیرہ کی نہیں ہے بلکہ یہ اطمینان ہے کہ گاڑی کا اصل مالک ہی بائیک بیچ رہا ہے تو کاغذات کے بغیر بائیک بیچنا اور خریدنا شرعاً جائز ہے۔ کاغذات وغیرہ گاڑی کے توابع و ملحقات میں ہوتے ہیں۔کاغذات نہ ہونے سے اگرچہ گاڑی کی مارکیٹ ویلیو کم ہو جاتی ہےلیکن کاغذات کے بغیر بھی اسے استعمال کرنا اور نفع اٹھانا ممکن ہے یعنی کاغذات کے بغیر بھی بائیک مالِ متقوم ہے۔لہذا اس کی خرید و فروخت شرعا جائز ہے۔ نیز اصل مالک سے کاغذات کے بغیر گاڑی کی خریداری کرنا کوئی قانونی جرم بھی نہیں ہے، لہذا اس اعتبار سے بھی عقدِ شرعی کرنے میں کوئی حرج نہیں پایاجاتا۔
البتہ یہ واضح رہے کہ گاڑی خریدلینے کے بعداسے بغیر کاغذات بنوائے چلانے یا استعمال کرنے میں قانونی طورپر ممانعت ہو سکتی ہے ۔یہ ایک خارجی پہلو سے ممانعت ہے ، اس سے عقد میں کوئی فرق نہیں پڑےگا ۔ ہاں جہاں یہ قانونی ممانعت ہے اور بغیر کاغذات کے گاڑی چلانے میں پکڑے جانے اور اپنے آپ کو ذلت و اہانت پر پیش کرنے کا پہلو ہوگا وہاں اس سے بچنا ہوگا ؛کیونکہ کسی بھی مسلمان کا اپنے آپ کو ذلت پر پیش کرنا جائزنہیں ،لہذا بغیر کاغذات کے گاڑی کی خریدوفروخت اپنی جگہ درست ہے لیکن اس کے بعد اسے بغیر کاغذات کے استعمال کرنا شرعاً ممنوع ہے ۔
ردالمحتار میں ہے:
” شرط المعقود عليه : كونه ۔۔۔مالا متقوما “
ترجمہ:بیع کے جائزاوردرست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ معقودعلیہ مال ِ متقوم ہو ۔(رد المحتار علی الدر المختار ،کتاب البیوع ،جلد05،صفحه58،دارالفكر بيروت)
اسی میں مال متقوم کی تعریف کے حوالےسے مزید ہے کہ :
”المراد بالمال ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة، ۔۔۔والتقوم يثبت بها وبإباحة الانتفاع به شرعا “
ترجمہ مال وہ ہوتاہے کہ جس کی طرف طبیعت مائل ہو اور اسے وقت حاجت کے لیے ذخیرہ کرنا ممکن ہو ۔ جبکہ تقوم ، مالیّت اور شریعت کے اس شے کو جائز الانتفاع (جس سےنفع اٹھانا جائزہو)قرار دینے سے ثابت ہوتی ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار ،کتاب البیوع ،جلد04،صفحه501،دارالفكر بيروت)
مبسوط للسرخسی میں ہے :
” أن البيع لا يجوز إلا فيما هو مال متقوم، والمال ما يتمول، والتقوم به يكون منتفعا به، وسائر حيوانات الماء سوى السمك غير مأكول اللحم، ولا منفعة لها سوى الأكل فلم يكن مالا متقوما، فإن كان شيئا له ثمن كجلود الحمر ونحوها فبيعه جائز؛ لأن هذا منتفع به بوجه حلال فيكون متقوما فيجوز بيعه. “
ترجمہ:بیع صرف اسی چیز میں درست اور جائز ہے جو مالِ متقوَّم ہو۔ "مال" کی تعریف یہ ہے کہ جس چیز میں لوگوں کا لین دین رائج ہو (اور وہ اسے مال شمار کریں ) ، اور "متقوَّم" ہونے کی شرط یہ ہے کہ اس سے شرعاً کوئی مباح اور جائز نفع حاصل کرنا ممکن ہو۔ پانی کے تمام جانور، مچھلی کے سوا، حلال گوشت نہیں ہیں اور ان میں کھانے کے علاوہ کوئی دوسری قابلِ اعتبار منفعت بھی نہیں پائی جاتی، اس لیے وہ مالِ متقوَّم نہیں کہلائیں گے اور ان کی خرید و فروخت درست نہیں ہوگی۔ البتہ اگر کوئی چیز ایسی ہو جس کی قیمت لگتی ہو اور اس سے کسی حلال طریقے سے فائدہ حاصل کرنا ممکن ہو، مثلاً گدھوں کی کھالیں اور اس جیسی دوسری اشیاء، تو ان کی خرید و فروخت جائز ہے؛ کیونکہ ان میں مباح اور حلال نفع پایا جاتا ہے، اور یہی چیز ان کے مالِ متقوَّم ہونے کی دلیل ہے۔(مبسوط للسرخسی ،کتاب الصید ،جلد11،صفحہ 255، دار المعرفة ، بيروت)
بیع نامہ یا رجسٹری وغیرہ خریدو فروخت کی تکمیل کے لیے شرط نہیں بلکہ اس کے بغیر بھی عقد درست رہتا ہے ،فتاوی رضویہ میں امام اہلسنت ،مجدد دین و ملت، الشاہ امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات/ 1340ھ)فرماتے ہیں :” بیع عقد لازم ہے بعدتمامی ہر گز بائع کو اختیار نہیں کہ دوسرے کے ہاتھ بیع کردے جب وہ بدست بکر بیچ چکا بیعنامہ لکھ دیا اس پر اپنے دستخط کردئے، تو تمامی عقد میں اصلا کوئی شبہ نہ رہا۔ رجسٹری نہ شرعا ضرور نہ اسے تکمیل عقد میں اصلا کچھ دخل، بلکہ شرعا تو صرف ایجاب وقبول کانام بیع ہے اگرچہ بیعنامہ بھی نہ لکھا جائے توتنہا بیعنامہ بطریق معروف ومعہود لکھ کر دستخط کرنا مشتری کا اسے قبول کرلینا بھی عقد تام وکافی ہے، اگر چہ زبانی الفاظ مقررہ خریدم وفروختم (میں نے خریدا، میں نے بیچا۔ ت) کا ذکر نہ آیا ہو۔“(فتاوی رضویہ ،جلد17،صفحہ 96، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اصل چیز مبیع یعنی خریدی جانے والی چیز ہے اور وہی چیز مقصود بیع ہوتی ہے ، اس کے توابع کے بغیر بھی عقد درست ہے ۔نہر الفائق شرح کنز الدقائق میں ہے :
”وبین القوسین عبارۃ کنز الدقائق:(ولا يدخل الطريق والمسيل) وهو موضع جريان الماء من المطر ونحوه، (والشرب) وهو النصيب من الماء في بيع المسكين أو الأرض (إلا بنحو بكل حق) كالمرافق وكل قليل وكثير لأن هذه الأشياء تابعة من وجه من حيث أنها تقصد بالانتفاع بالمبيع دون عينها أصل من وجه من حيث أنها يتصور وجودها بدون المبيع فلا تدخل إلا بذكر الحقوق أو المرافق “
ترجمہ:(اور راستہ اور پانی کے بہاؤ کی جگہ داخل نہیں ہوں گے) یعنی وہ جگہ جہاں بارش یا دوسرے پانی کا بہاؤ ہوتا ہے۔ (اور نہ ہی پانی کا حق) یعنی کھیت یا زمین کی آبپاشی کے لیے پانی کا حصہ، یہ سب کسی مکان یا زمین کی بیع (خرید و فروخت) میں شامل نہیں ہوں گے، (مگر اس وقت جب کہا جائے: ’ جملہ حقوق کے ساتھ‘) جیسے مرافق اور ہر چھوٹی بڑی چیز کے ساتھ؛کیونکہ یہ چیزیں من وجہ تابع ہیں، اس حیثیت سے کہ ان کے ذریعے اصل مَبِیع (خریدی جانے والی چیز) سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، لیکن دوسری حیثیت سے اصل نہیں ہیں،؛کیونکہ مَبِیع ان کے بغیر بھی وجود رکھ سکتا ہے۔ اس لیے یہ صرف اس وقت شامل ہوں گی جب بیع کے وقت خاص طور پر حقوق یا مرافق کا ذکر کیا جائے۔(نہر الفائق ، کتا ب البیوع ، جلد03،صفحہ 482، دار الكتب العلمية)
فی نفسہ چیز مال متقوم ہو لیکن خارجی امر کی وجہ سے ممانعت آ جائے تو بھی اس کی خریدوفروخت فی نفسہ درست رہتی ہے اور اس کے سارے احکام نافذقرار پاتےہیں ۔فتح القدیر میں ہے :
”وبین القوسین عبارۃ الھدایہ :والبیع عند أذان الجمعۃ قال اللہ تعالی ﴿وذروا البیع﴾(الجمعۃ:9 )ثم فیہ إخلال بواجب السعی علی بعض الوجوہ.... (وکل ذلک یکرہ )أی کل ما ذکرناہ من أول الفصل إلی ھنا یکرہ أی لا یحل(لما ذکرناولا یفسد بہ البیع )باتفاق علمائنا حتی یجب الثمن ویثبت الملک قبل القبض ( لأن الفساد فی معنی خارج زائد لا فی صلب العقد ولا فی شرائط الصحۃ)“
ترجمہ:جمعہ کی اذان کے وقت(سے)بیع کرنا مکروہ ہے اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ” اور بیع کو ترک کر دو۔“ پھر یہ کہ اس وقت بیع میں مشغول ہونا بعض صورتوں میں سعی والے واجب کی ادائیگی میں خلل انداز ہوگا ۔اور یہ تمام بیوع یعنی جو فصل کے شروع سے یہاں تک بیان ہوئیں مکروہ ہیں یعنی ان کا کرنا حلال نہیں اس وجہ سے جو ہم نے پہلے بیان کی۔ البتہ باتفاقِ علماء ان صورتوں میں بیع فاسد نہیں ہوگی یہاں تک کہ خریدار پر ثمن کی ادائیگی واجب ہو جائے گی اور قبضہ کرنے سے قبل ہی وہ مبیع کا مالک بن جائے گاکیونکہ یہاں فساد نفسِ عقد یا شرائطِ صحت میں نہیں بلکہ ایک خارجی امر کی وجہ سے ہے ۔(فتح القدیر،کتاب البیوع، جلد06، صفحہ478، دار الفکر، بیروت)
مسلمان کا اپنے آپ کوذلت پر پیش کرنا جائز نہیں ، مصنف عبدا لرزاق میں روایت ہے کہ :
” أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لا ينبغي لمؤمن أن يذل نفسه"، قال: وكيف يذل نفسه؟ قال: "يتعرض من البلاء بما لا يطيق “
ترجمہ:کسی مسلمان کے لیے روا نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلت پہ پیش کرے، صحابی رسول نے عرض کی کہ مسلمان اپنے آپ کو کیسےذلت پہ پیش کرے گا؟ ارشاد فرمایا: ایسی مصیبت کے درپے ہو جس کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ (مصنف عبدا لرزاق، جلد10،صفحہ369، دار التأصيل)
بنایہ شرح ہدایہ میں ہے :
” إذلال النفس حرام ۔“
ترجمہ:نفس کو ذلت پر پیش کرنا حرام ہے ۔(البنایۃ شرح الہدایۃ ، کتا ب النکاح ، جلد05 ، صفحہ 109، دار الكتب العلمية ، بيروت)
فتاوی رضویہ میں ہے :”کسی ایسے امر کا ارتکاب جو قانوناً ناجائز ہواور جرم کی حد تک پہنچے ، شرعاً بھی ناجائز ہو گا کہ ایسی بات کے لیے جرم قانونی کا مرتکب ہو کر اپنے کو سزا اور ذلت کے لیے پیش کرنا شرعاً بھی روا نہیں ۔“(فتاوی رضویہ ،جلد 20،صفحہ 192، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وقار الفتاوی میں ہے :”مسلمان کو خلافِ قانون کوئی کام کرنا، جائز نہیں ہے،اس لیے کہ خلافِ قانون کام کرنے سے جب پکڑا جائے گا ،تو پہلے جھوٹ بولے گا،اگرجھوٹ سے کام نہ چلا تو رشوت دے گا،رشوت سے بھی کام نہ چلا تو سزا ہوگی ،جس میں اس کی بے عزتی ہے۔مسلمان کوئی ایسا کام ہی نہ کرے جس سے جھوٹ بولنا یا رشوت دینا پڑے یا جس سے اس کی بے عزتی ہو۔“(وقارالفتاوی ، جلد01،صفحہ252،مطبوعہ کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب :محمد ساجد عطاری
مصدق:مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر : NRL-0350
تاریخ اجراء : 02ربیع الاول1447ھ/27اگست2025ء