سودی بینک سے کیش بیک کی سہولت کا حکم

 

اکاؤنٹ میں مخصوص رقم رکھنے کی شرط پر کیش بیک کی سہولت کا حکم

دارالافتاء اھلسنت عوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ  ایک سودی  بینک نے ایک کرنٹ اکاؤنٹ پر ایک سہولت نکالی ہے کہ اگر کسٹمرمذکورہ اکاؤنٹ میں ماہانہ بنیاد پر کم از کم  10 ہزار روپےرکھے اور اسی اکاونٹ کے ذریعے کے الیکٹرک کا بل ادا کرے گا تو اس کو 2000 روپے تک  کیش بیک ملے گا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سہولت کو حاصل کرنا،  جائز ہے ؟اس کی تفصیل بینک نے اپنی ویب سائٹ پر بھی بیان  کی ہوئی ہے ۔

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

پوچھی گئی صورت میں مذکورہ سودی بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں کم از کم 10ہزار روپے  رکھنے اورپھر اس اکاؤنٹ کےذریعے بل کی ادائیگی پر کیش بیک کی سہولت حاصل کرنا،  جائز نہیں کیوں  کہ کرنٹ اکاؤنٹ میں  جو رقم جمع کی جاتی ہے اس کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے اور قرض پر کسی قسم کا مشروط نفع دینا یا لینا جائز نہیں ہے ۔جیساکہ حدیث پاک میں فرمایا گیا:

”كل قرض جر منفعة فهو ربا۔“

یعنی قرض کی بنیاد پر جونفع حاصل کیا جائے وہ سودہے۔( کنزالعمال،حدیث 15516،   جلد6،صفحہ238، بیروت)

پوچھی گئی صورت میں قرض پر ایک مشروط نفع دینے کا معاملہ ہے ۔ مشروط نفع کی مقدار طے نہ کی جائے تب بھی وہ نفع سود ہی ہوتا ہے۔ ضروری ہے کہ کوئی بھی مسلمان ایسا اکاؤنٹ نہ کھلوائے جو کہ سود پر مبنی ہو۔در مختار میں ہے:

”کل قرض جر  نفعاً حرام“

یعنی نفع کا سبب بننے والا قرض حرام ہے۔(در مختار،جلد7،صفحہ413،دار الفکر،بیروت)

علامہ ابن عابدین شامی رحمۃا للہ علیہ  رد المحتار میں اس عبارت کے تحت لکھتے ہیں:

” اذا کان مشروطاً“

یعنی مشروط نفع حرام ہے ۔(رد المحتار،جلد7،صفحہ413،دار الفکر،بیروت)

سیدی اعلی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے قرض کی بنیاد پر نفع حاصل کرنے کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا:” کسی طرح جائزنہیں۔“(فتاوی رضویہ،جلد25،صفحہ217،رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)

صدر الشریعہ،بدر الطریقہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالی   قرض دینے والے سے متعلق  فرماتے ہیں:”یوہیں کسی قسم کے نفع کی شرط کرے،  ناجائز  ہے۔“(بہار شریعت،جلد2،صفحہ759،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ،کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر:IEC-351

تاریخ اجراء:05ربیع الاول 1446ھ/10ستمبر 2024ء