logo logo
AI Search

گیم زون یا ویڈیو گیم کےلئے دکان کرائے پر دینا کیسا؟

ویڈیو گیمز کے لیے دکان کرائے پر دینے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کےبارےمیں کہ بکر، زید سے ویڈیو گیم کے لئے دکان کرائے پر لینا چاہتا ہے۔ بکر دکان کرائے پر لے کر اس میں ویڈیو گیمز کی مشینیں رکھے گا، عموماً  ویڈیو گیم لہو ولعب  پر مشتمل ہوتے ہیں۔توکیا زید کا بکر کو ویڈیو گیم کے لئے دکان کرائے پر دینا جائز ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

پوچھی گئی صورت میں اگر زید کی نیت صرف دکان کرائے پر دینے کی ہو،کسی گناہ کے کام میں تعاون کی نیت نہ ہو،تو شرعاً اس کا بکر کو دکان کرائے پر دینا جائز ہوگا۔دکان کرائے پرلینے کے بعداگربکر اُس دکان میں ویڈیو گیمز کی مشینیں رکھےاوردکان میں کوئی گناہ کا کام ہو،تو اس  کا گناہ خود بکر پر ہوگا،زید گناہ پر مدد کی نیت نہ کرے تو زید پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

ہاں ! زید کے لئے بہتر یہ ہے کہ جائز پیشہ کرنے والے افراد کو دکان کرائے پر دےتاکہ اپنی ملکیت میں موجود چیز کو کسی بھی طور پر گناہ کے کام میں استعمال ہونے سے بچایا جا سکے۔

مسلمان کا غیر مسلم کو رہائش کے لیے مکان کرایہ پر دینا جائز ہے۔جیسا کہ مبسوط للسرخسی میں ہے:

”لا بأس بأن يؤاجر المسلم دارا من الذمی  ليسكنها فإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو دخل فيها الخنازير لم يلحق المسلم إثم فی  شیء من ذلك لأنه لم يؤاجرها لذلك والمعصية فی فعل المستأجر وفعله دون قصد رب الدار فلا إثم على رب الدار فی  ذلك“

  ترجمہ: مسلمان اپنا گھر کسی ذمی کافر کو رہنے کے لئے کرایہ پر دے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ اب اگر وہ (ذمی) اس گھر میں شراب نوشی کرے، صلیب کی عبادت کرے یا اس میں خنزیر رکھے، تو ان باتوں کا گناہ مسلمان  پر نہیں ہوگا؛ کیونکہ اس نے یہ مکان ان کاموں کے لیے کرائے پر نہیں دیا۔ گناہ تو کرایہ دار کے فعل میں ہے، اور اس فعل کا مالکِ مکان نے کوئی ارادہ نہیں کیا ، اس لیے مالکِ مکان پر اس میں کوئی گناہ نہیں۔(مبسوط للسرخسی،جلد 16 ،صفحہ 39 ،مطبوعہ  دار المعرفہ بیروت)

فتح القدیر میں ہے:

”أن الاجارة وقعت على أمر مباح فجازت“

ترجمہ:اجارہ امرِ مباح پر واقع ہو ا ہے تو  اجارہ جائز ہے۔(فتح القدیر ، جلد 10 ، صفحہ 60 ، مطبوعہ دار الفکر)

تصویر کھینچنے والے کو دکان کرایہ  پر دینے  کے متعلق فتاویٰ امجدیہ میں ہے: ’’اس شخص کو دکان کرایہ پر دی جاسکتی ہے مگر یہ کہہ کر نہ دیں کہ اس میں تصویر کھینچئے۔ اب یہ اس کا فعل ہے کہ تصویر بناتا ہے اور عذابِ آخرت مول لیتا ہے۔ پھر بھی بہتر یہ ہےکہ مسجد کے آس پاس خصوصاً دکانِ مسجد کو محرمات سے پاک رکھیں اور ایسے کو کرایہ پر دیں جو جائز پیشہ کرتا ہو۔‘‘(فتاوی امجدیہ،جلد3،صفحہ272،مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب :ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر :IEC-660

تاریخ اجراء :27محرم الحرام 1447ھ / 23 جولائی 2025ء