
دارالافتاء اھلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں کچھ عرصہ قبل پاکستان سے بیلجیم کے شہر برسلزرہنے گیااور وہاں تقریبا ڈیڑھ سال میں نے ایک کمپنی میں ملازمت کی، اب میری وہ ملازمت چھوٹ گئی ہے اورمیں بے روزگار ہوں،سوال میرا یہ ہے کہ یہاں کی گورنمنٹ جو کہ غیر مسلموں کی ہے وہ بے روزگاروں کو اپنی طرف سے الاونس دیتی ہے تو میرا گورنمنٹ سے وہ الاؤنس لینا کیسا ہے ؟سائل:محمد عرفان
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں اگر آپ گورنمنٹ کی پالیسی اور شرائط پر پورا اتر رہے ہیں اور کوئی دھوکا نہیں دے رہے تو آپ کا اس گورنمنٹ سے بے روزگاروں کو ملنے والا الاؤنس لینا جائز ہے کیونکہ گورنمنٹ کی طرف ملنے والا الاؤنس آپ کے حق میں ہبہ ہے اور کافر سے ایسا ہبہ قبول کرنا جس سے مسلمان کے دین پر اعتراض نہ ہوجائز ہے اسی طرح کافر کا مال بغیر دھوکا دیے اس کی رضامندی سے لینا جائز ہے ۔
کافر کا مال دھوکا دیے بغیر لینا جائز ہے چنانچہ فتح القدیرمیں ہے:
”وانما يحرم على المسلم اذا كان بطريق الغدر (فاذا لم يأخذ غدرا فبأی طريق يأخذه حل) بعد كونه برضا “
ترجمہ: مسلمان پر کافر کا مال صرف اسی صورت میں حرام ہے جب دھوکے کے طورپرہو ، پس جب دھوکے سے نہ لے توجس طریقے سے بھی لے گاحلال ہوگا ، جبکہ اس کی رضامندی لیا ہو۔(فتح القدیر،جلد07،صفحہ39،مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)
اعلی حضرت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:’’کافر اصلی غیر ذمی وغیر مستامن سے اپنے نفع کے وہ عقود بھی جائز ہیں جو مسلم وذمی مستامن سے ناجائز ہیں، جن میں غدر نہ ہو کہ غدر و بدعہدی مطلقًا سب سے حرام ہے، مسلم ہو یا کافر ذمی ہو یا حربی مستامن ہو یا غیر مستامن اصلی ہو یامرتد۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد14، صفحہ139، رضا فاؤنڈیشن لاهور)
کافر کی طرف سے ہبہ کے متعلق ’النتف للفتاوی‘ میں ہے:
’’ اما ھبۃ الکافر للمسلم فجائزۃ ایضا سواء کانت فی دار الاسلام او فی دار الکفر ‘‘
یعنی: کافر کا مسلمان کو ہبہ جائز ہے خواہ دار الاسلام میں ہو یادار الکفر میں ہو۔(النتف للفتاوی،جلد1، صفحہ 521، مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت)
کافر سے ہبہ لینے سے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے:’’غیر ذمی سے بھی خرید وفروخت ، اجارہ واستیجار، ہبہ و استیہاب بشروطہا جائز۔۔۔ بمصلحت شرعی اسے ہدیہ دینا جس میں کسی رسم کفر کا اعزاز نہ ہو، اس کا ہدیہ قبول کرنا جس سے دین پر اعتراض نہ ہو ۔۔حلال ہے۔(فتاوی رضویہ، جلد14، صفحہ421، رضا فاؤنڈیشن لاهور، ملتقطا)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتوی نمبر:IEC-457
تاریخ اجراء:22رجب المرجب 1446ھ/23 جنوری 2025ء