دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شر ع متین اس مسئلے میں کہ میوزک پروڈکشن انڈسٹری کے فنانس ڈپارٹمنٹ میں ملازمت کرنے کا کیا حکم ہے؟ مجھے اس میں مندرجہ ذیل کام کرنے ہوں گے:
• جس اسٹوڈیو میں گانا ریکارڈ ہونا ہے، اس کا رینٹ ادا کرنا، گانا کمپوز کرنے والے ، پروڈیوسر وغیرہ کی فیس ادا کرنا۔
• ریکارڈنگ، گانوں کے پروگرامز، گلوکاروں کی فیسز وغیرہ تمام مراحل میں ایسے اقدامات کرناجس سے خرچہ کم سے کم ہو۔
• ہر خریداری اور فروخت(مثلاً گانے کی سیلز، پروگرام کے ٹکٹ،اسٹوڈیو کا کرایہ وغیرہ) کو اکاؤنٹنگ سافٹ ویئر میں درج کرنا۔
• گلوکاروں اور میوزک کمپنی کے معاونین کو اخراجات کا بل بھیجنا وغیرہ۔
• کمپنی کے جن شرکاء کو رائلٹی دینی ہے، انہیں رائلٹی دینا۔
• اگر پروگرامز میں یا کمپنی کے اثاثے میں کوئی نقصان ہو تو اس کاانشورنس کلیم کرنا۔
میری رہنمائی فرمائیں کہ کیا میرا اس کمپنی کے فنانس ڈپارٹمنٹ میں ملازمت کرنا،جائز ہے؟ کیونکہ میں نےتو صرف اکاؤنٹس دیکھنے ہیں، موسیقی وغیرہ سے براہ راست میرا کوئی تعلق نہیں ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں آپ کا میوزک پروڈکشن کے فنانس ڈپارٹمنٹ میں ملازمت کرنا، ناجائز و حرام ہے۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہےکہ قوانینِ شرع کےمطابق ہر وہ ملازمت جس میں کوئی ناجائز و حرام کام کرنا پڑے یا اس میں براہِ راست تعاون کرنا پڑے، ایسی نوکری کرنا ہی جائز نہیں ہے۔ پوچھی گئی صورت میں بذاتِ خودمیوزک پروگرامز کی تیاری ، یوں کہ اس کے خرچوں کی دیکھ بھال کرنا، رینٹ ادا کرنے سمیت کمپوزر، پروڈیوسر اور گلوکاروں کی فیس ادا کرنا ،گانوں کی فروخت پر حاصل ہونے والے حرام مال کا حساب کتاب کرنا، اگر انڈسٹری کو کو ئی نقصان ہوتا ہے تو انشورنس کی مد میں سود کا لین دین کرنا ، ناجائز و گناہ کے کاموں میں براہِ راست معاونت والے کام ہیں لہٰذا یہ ملازمت کرنا ، جائز نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ناجائز کاموں میں مدد کرنے سے منع فرمایا ہے چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
”وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ“
ترجمۂ کنز الایمان:اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو ۔(پارہ06،سورۃ المائدہ ،آیت نمبر02)
گناہ کے کاموں پر اجارہ کرنا ، جائز نہیں ہے چنانچہ اس کے متعلق الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:
’’(و لا تجوز علی المعاصی کالغناء والنوح و نحوھما )لانھا لا تستحق بالعقد فلا تجوز“
یعنی:گناہ کے کاموں پر اجارہ کرنا ، جائز نہیں ہے جیسا کہ گانے،نوحے اور اسی کی مثل دوسری چیزوں پر،کیونکہ یہ ایسے کام ہیں جن کا استحقاق کسی عقد سے نہیں ہوتا،تو ان پر اجارہ کرنا بھی جائز نہیں ۔( الاختیار لتعلیل المختار،جلد2،صفحہ60،مطبوعہ قاہرہ)
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن لکھتے ہیں:”وہ جس میں خود ناجائز کام کرنا پڑے۔۔۔ایسی ملازمت خود حرام ہے۔‘‘(فتاویٰ رضویہ ،جلد 19،صفحہ 515 ،مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہور)
اس ملازمت میں قدم قدم پر ناجائز معاہدے،ناجائز بل بنانے کا کام کرنا پڑے گا اور یہ خود ایک حرام ہے۔اس طرح کے ناجائز کاغذات لکھنے کے متعلق امام اہلسنت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب اس کا تمسک لکھنا موجبِ لعنت اور سود کھانے کے برابر ہے تو خود اس کا معاہدہ کرنا کس درجہ خبیث و بدتر ہے؟ ایسے شخص کو امام نہ کیا جائے ، ہر نوکری جس میں خلافِ شریعت حکم دینا پڑتا ہو حرام ہے۔“(فتاویٰ رضویہ ،جلد 06،صفحہ 546،مطبوعہ رضا فاونڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب :ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتوی نمبر :IEC-693
تاریخ اجراء :20صفرالمظفر1447ھ/15اگست2025ء