logo logo
AI Search

مضاربت میں نقصان کی شرط نہ ہونے پر عقد کا شرعی حکم

مضاربت میں نقصان کی شرط بیان نہ کی تو عقد جائز ہوگا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شر ع متین اس مسئلے میں کہ میں نے ایک شخص سے مضاربت کی بنیاد پر پیسے لئے، اورنفع آدھا آدھا طے ہوا،لیکن نقصان کے متعلق ہم نے کچھ بھی ذکر نہیں کیا کیونکہ میں  اکثر  لوگوں سے  مضاربت  کے طور پر مال لیتا  ہوں اور مارکیٹ میں میرے حوالے سے یہ مشہور بھی ہے کہ  جس کے ساتھ میں کام کرتا ہوں نقصان ہونے کی صورت میں مکمل نقصان  رب المال ہی برداشت کرتا ہے۔ فی الحال میرا صرف اسی ایک  شخص کے ساتھ  معاہدہ ہے،اس کے سوا میرے پاس کسی کا بھی مال نہیں ہے۔

میری رہنمائی فرمائیں کہ  کیا ہم دونوں کے  کانٹریکٹ میں  نقصان کا ذکر نہ کرنے سے عقدِمضاربت ناجائز ہو جائے گا؟اگر چہ ہم دونوں کو معلوم  ہے کہ نقصان ہونے کی صورت میں  مکمل نقصان  رب المال ہی برداشت کرےگا۔

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

قوانینِ شریعت کے مطابق عقدِ مضاربت کرتے وقت  نقصان سے متعلق وضاحت نہ کرنے کی وجہ سے عقدِ مضاربت پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ شرعی طور پر یہ بات طے شدہ ہے کہ مضاربت میں اگر مضارب کی تعدی و کوتاہی کے بغیر نقصان ہو تو وہ تمام نقصان رب المال  (Investor)   ہی برداشت کرے گا بلکہ کتبِ فقہ میں یہاں تک بیان ہوا کہ اگر مضارب پر نقصان کی شرط لگادی جائے تب  بھی عقدِ مضاربت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور  یہ شرط ہی باطل ٹھہرے گی اور نقصان کے جو مسائل ہیں، ان کی تفصیل کی روشنی میں   رب المال کو ہی نقصان برداشت کرنا پڑے گا البتہ  اس میں کافی تفصیل ہے،  سب سے پہلے نفع سے نقصان پورا کیا جاتا ہے۔

لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر شرعی اصولوں کے مطابق عقدِ مضاربت کیا گیا تو محض نقصان کا ذکر نہ  ہونے سے عقدِ مضاربت پر اثر نہیں پڑے گا اور  شریعت کے طے شدہ اصول کے مطابق نقصان رب المال کو ہی برداشت کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ ہمارے معاشرے میں انویسٹمنٹ لینے کی ایک سودی صورت رائج ہے کہ انویسٹر، کام کرنے والے کو اس شرط پر رقم دیتا ہے کہ جب تک یہ رقم اس کے پاس رہے گی  وہ  انویسٹر کو طے شدہ نفع دیتا رہے گا اور جب انویسٹر کو رقم واپس چاہیے ہوگی تو مکمل رقم انویسٹر کو واپس کردی جائے گی۔ کام میں نفع ہو یا نقصان، انویسٹر کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔   یہ مضاربت نہیں بلکہ قرض ہے اور قرض پر نفع لینا خالص سود  اور حرام و گناہ ہےجس سے بچنا  مسلمانوں پر لازم ہے۔

جومشروط نفع قرض کی بنیاد پر دیا جائے،  وہ سود ہے۔ حدیث شریف میں ہے:

”كل قرض جر منفعة فهو ربا“

یعنی قرض کی بنیاد پر جو نفع حاصل کیا جائے وہ سودہے۔( کنزالعمال،حدیث 15516،   جلد6،صفحہ238، بیروت)

نوٹ: مضاربت کرتے وقت جہاں نفع کا تعین ، تجارت کی قسم کا تعین اور دیگر لوازمات پورے کئے جاتے ہیں،  وہیں اس بات کی بھی صراحت کردینی چاہئے کہ اگر نقصان ہوا تو  انویسٹر کو برداشت کرنا ہوگا  تاکہ بعد میں کسی قسم کے جھگڑے کی کوئی صورت نہ رہے۔

مضارب پر نقصان کی شرط لگادی جائے تب بھی عقدِ مضاربت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا،بلکہ خود شرط ہی باطل ہوگی۔  ملا خسرو رحمۃ اللہ علیہ، درر الحکام میں لکھتے ہیں:

 ”فجهالته تفسد العقد (وغيره لا) أي غير ذلك من الشروط الفاسدة لا يفسد المضاربة (بل يبطل الشرط كاشتراط الخسران على المضارب) لأنها جزء هالك من المال فلا يجوز أن يلزم غير رب المال لكنه شرط زائد لا يوجب قطع الشركة في الربح والجهالة فيه فلا يفسد المضاربة “

یعنی صرف نفع کی جہالت عقدِ مضاربت کو  فاسد کرتی ہے اس کے ما سوا دیگر شرائط مضاربت کو  فاسد نہیں کرتیں بلکہ خود   شرط ہی لغو و باطل ہو جاتی ہے جیسا کہ مضارب پر نقصان کی شرط  لگانا۔کیونکہ  مال کا جو حصہ ہلاک ہوگا وہ راس المال سے  ہلاک  ہوگا تو صاحبِ  مال کے سوا  کسی اور پر یہ نقصان لازم کرنا، جائز نہیں ،چونکہ یہ شرطِ زائد ہے جس  سے نفع میں قطع شرکت بھی نہیں ہوتی اورنفع میں جہالت بھی پیدا نہیں ہوتی لہٰذا  یہ شرط مضاربت  کو فاسد نہیں کرے گی ۔(درر الحکام شرح غرر الاحکام،جلد2،صفحہ312،مطبوعہ بیروت)

امام اہلسنت رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں: ”مضارب کے ذمہ نقصان کی شرط باطل ہے، وہ اپنی تعدی ودست درازی و تضییع کے سوا کسی نقصان کا ذمہ دار نہیں ۔ جو نقصان واقع ہو،  سب صاحبِ مال کی طرف رہے گا۔(فتاوی رضویہ،جلد19،صفحہ131،رضا فانڈیشن،لاہور)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہارِ شریعت میں لکھتے ہیں:” اگر اُس شرط سے نفع میں جہالت نہ ہو تو وہ شرط ہی فاسد ہے اور مضاربت صحیح ہے مثلاًیہ کہ نقصان جو کچھ ہوگا وہ مضارِب کے ذمہ ہوگا یا دونوں کے ذمہ ڈالا جائے گا۔“(بہار شریعت،جلد3،صفحہ03،مکتبۃالمدینہ،کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب :ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر :IEC-443

تاریخ اجراء :26جمادی الاولٰی1446ھ/29نومبر2024ء