logo logo
AI Search

وقت پر ادائیگی کی صورت میں مشروط ڈسکاؤنٹ کا حکم

پلاٹ خریدنے کے بعد مقررہ وقت پر ادائیگی کی صورت میں مشروط ڈسکاؤنٹ کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہاؤسنگ سوسائٹی نے ایک پروجیکٹ لانچ کیا ہے جس میں 240گزکے پلاٹ کی کل قیمت چوبیس لاکھ(24,00,000) روپے مقرر کی گئی ہے۔ قیمت کی ادائیگی اس طرح ہوگی کہ خریدار ساڑھے  چار لاکھ  (450,000) روپے تو بکنگ کے وقت ہی ادا کردے گا، بقیہ رقم ہر چھ ماہ پر پانچ قسطوں میں ادا کرے گا۔ ان میں سے پہلی دو قسطیں  چار لاکھ بیس ہزار (420,000) روپے کی ہوں گی، جبکہ آخری تین قسطیں تین لاکھ ستر (370,000) ہزار روپے کی  ہوں گی۔

اب ہاؤسنگ سوسائٹی والوں نے یہ آفر دی ہے کہ اگر کوئی خریدار بکنگ کے وقت اوراس کے بعد والی ابتدائی دونوں  قسطوں کی ادائیگی مقررہ تاریخ پر کردیتا ہے تو اُسے ہر ادائیگی پر   پچاس ہزار (50,000) روپےکا ڈسکاؤنٹ دیا جائے گا۔ یوں ڈسکاؤنٹ کے بعد خریدار کو وہ پلاٹ بائیس لاکھ پچاس  ہزار (2,250,000) روپے کا پڑےگا۔

آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ہاؤسنگ سوسائٹی  والوں کا مقررہ قیمت پر یہ ڈسکاؤنٹ آفر دینا شرعاً جائز  ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

پوچھی گئی صورت میں ہاؤسنگ سوسائٹی والوں کا مقررہ قیمت میں کمی کرنے  کی آفر کرنا  ، جائز ہے   کیونکہ  خرید وفروخت مکمل ہوجانے کے بعد بھی اگر بیچنے والا،  خریدنے والے کے لیے بیچی گئی چیز کی قیمت میں  کچھ کمی   کردے یعنی اسےڈسکاؤنٹ دے دے یا پوری قیمت ہی معاف کردے تو شرعاً یہ جائز ہے،  اس میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں ہے۔

   بیچنے والے کی طرف سے ثمن میں رعایت کرنا، جائز ہے جیسا کہ درمختار اور اس کے تحت  ردالمحتار میں ہے:

”(و) صح (الحط منہ) ای من الثمن“

یعنی:بائع کا ثمن میں کمی کرنا ، درست ہے۔(درمختار مع ردالمحتار،جلد 5،صفحہ 154،مطبوعہ بیروت)

اسی طرح ہدایہ میں ہے:

”ويجوز للبائع ان يزيد للمشتری فی المبيع، ويجوز ان يحط عن الثمن“

یعنی: بائع کا مشتری کیلئے مبیع میں اضافہ کرنا ، جائز ہے  اور ثمن میں کمی کرنا بھی جائز ہے۔(الھدایہ ،جلد3، صفحہ 59، مطبوعہ بیروت)

خرید و فروخت ہوجانے کے بعد بائع کے مشتری کو مجلسِ بیع میں یا  مجلسِ بیع  کے بعد ثمن معاف کرنے سے متعلق  اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا:” اگر ایک جائیداد بیع کی جائے اور اسی مجلس خواہ دوسری مجلس میں  بائع کل ثمن مشتری کو معاف کردے تو جائز ہے یانہیں؟ آپ علیہ الرحمہ  نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا: ”بیشک جائز ہے کہ بائع کوئی چیز بیچے اور اس مجلس خواہ دوسری میں  کل ثمن یا بعض مشتری کو معاف کردے اور اس معافی کے سبب وہ عقد ، عقد ِبیع ہی رہے گا اور اسی کے احکام اس پر جاری ہوں  گے ۔( فتاوی رضویہ،جلد 17،صفحۃ 246،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

تنبیہ: پلاٹ  کی خرید وفروخت درست واقع ہونے کے لیے ضروری ہے کہ پلاٹ کا محل وقوع معلوم ہو  کہ کس جگہ ہے؟ کتنا بڑا  ہے؟ نقشے میں پلاٹ نمبر کی تعیین کے ساتھ  ساتھ حقیقت میں بھی پلاٹ موجود ہو، اس کی مالیت متعین ہو،غرض یہ کہ پورے ایگریمنٹ میں کوئی بھی ایسی بات نہ پائی جائے کہ  جو خلافِ شرع ہو۔ اب عموماً یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ پلاٹ کی محض فائل بِک رہی ہوتی ہے،  پیچھے پلاٹ کا وجود ہی نہیں ہوتا یا پھر پلاٹ موجود ہوتا ہے مگر اس کی تعیین نہیں ہوتی، ایسی صورت میں خرید و فروخت جائز نہیں ہوگی۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی

فتوی نمبر :IEC-625

تاریخ اجراء :15ذوالحجۃالحرام1446ھ/12جون2025ء