
دارالافتاء اھلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے بکر کو بیس سال پہلے دس ہزار روپے قرضہ دیا ، اب بکر نے آج کی تاریخ میں یہ دس ہزار واپس کیے۔ اب زید کہتا ہے کے ان دس ہزار کی آج کیا حیثیت بلکہ اس دور میں جو دس ہزار کی اہمیت تھی مجھے اس کے برابر پیسے واپس کیے جائیں۔ مثال کے طور پر اُس دور میں دس ہزار پچاس ڈالر کے برابر تھے اور آج پچاس ڈالر بیس ہزار کے ہیں تو 20 ہزار واپس کیے جائیں۔ اس صورت میں زید کا زیادہ پیسے لینا سود ہوگا یا نہیں؟ جواب سے نوازیں تاکہ سامنے والے کو مطمئن کیا جاسکے۔
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں حکم شرعی یہ ہے کہ زید نے بکر کو جتنے پیسے قرضہ کی صورت میں دیے تھے یعنی 10 ہزار پاکستانی روپے تو اب زید ادائیگی کی صورت میں 10 ہزار پاکستانی روپے ہی لے سکتا ہے بلکہ زید کو اتنی ہی رقم لینے پر مجبور کیا جائے گا کیونکہ شرعی اصولوں کے مطابق جو چیز قرض دی جاتی ہے اس چیز کی مثل ہی ادا کرنا لازم ہوتا ہے، قیمت کے بڑھنے یا کم ہونے کا اعتبار نہیں ہوتا۔ لہذا زید کا ڈالر کی قیمت کے مطابق بکر سے قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کرنا شرعا جائز نہیں، اگر ایسا کیا گیا تو جو بھی اصل رقم پر اضافہ ہوگا وہ سود وحرام ہوگا ۔
تنقیح فتاوی حامدیہ میں ہے:
’’رجل استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه ردمثلها؟ نعم ولا ينظر الى غلاء الدراهم ورخصها ‘‘
یعنی کسی شخص نے دوسرے سے دراہم کی کچھ مقدار قرض لی اور اس میں تصرف کیا ،پھر ان دراہم کی قیمت زیادہ ہوگئی ، تو کیا اس صورت میں بھی اس کا مثل لوٹانا لازم ہے ؟ جی ہاں (مثل کا لوٹانا ہی لازم ہے ) اور دراہم کے مہنگے اور سستے ہونے کا اعتبار نہیں ۔ (تنقیح فتاوی حامدیہ، جلد1، صفحہ 279،مطبوعہ بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
’’لواستقرض من آخر حنطۃ فاعطی مثلھا بعدما تغیر سعرھا فانہ یجبر المقرض علی القبول ‘‘
یعنی : اگر کسی نے دوسرے سے گندم قرض لی پھر اتنی ہی گندم واپس کی جبکہ گندم کے ریٹ میں تبدیلی آچکی تھی تو قرض خواہ کو اس گندم کو قبول کرنے پر مجبور کیا جائے گا ۔(فتاوی عالمگیری ،جلد3،صفحہ 203،دار الکتب العلمیہ )
بہار شریعت میں ہے :’’ قرض کا حکم یہ ہے کہ جو چیز لی گئی ہے، اُس کی مثل ادا کی جائے۔‘‘(بہار شریعت ،جلد 2،صفحہ756،مطبوعہ مکتبۃالمدینہ،کراچی )
اسی میں ہے :’’ادائے قرض میں چیز کے سستے مہنگے ہونے کا اعتبار نہیں، مثلاً: دس سیر گیہوں قرض لیے تھے ،اُن کی قیمت ایک روپیہ تھی اور ادا کرنے کے دن ایک روپیہ سے کم یا زیادہ ہے اس کا بالکل لحاظ نہیں کیا جائے گا، وہی دس سیر گیہوں دینے ہونگے۔ ‘‘(بہار شریعت ،جلد2،صفحہ757،مطبوعہ مکتبۃالمدینہ،کراچی )
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتوی نمبر:IEC-355
تاریخ اجراء:09ربیع الاول1446ھ/14ستمبر 2024ء