دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید دینی ٹیوشنز پڑھاتا ہے تو اس کے پاس ٹیوشنز زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ کسی دوسرے کو اپنی یا اپنے رابطے سے ملی ہوئی ٹیوشن اس طور پر دے دیتا ہے کہ وہ جو ٹیوشن بھی دوسرے کو دے گاتو اس میں سے کچھ پرسنٹ پیسے ہر ماہ اسے کمیشن کے طور پر ملیں گےتو ایسا کرنا کیسا ہے؟ سائل: مولانا سجاد مدنی (گجرانوالہ)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
یہاں ٹیوشن دلانے پر کمیشن کی دو صورتیں بنتی ہیں:
(1)اگر زید باقاعدہ کمیشن ایجنٹ بن کر کام کرے، مثلاً: سرپرستوں سے رابطہ، قاری صاحب کو لے جاکر ملاقات کروانا اور اجرت و دیگر معاملات طے کرکےعقد کروانا، تو ایسی صورت میں (دیگر شرائط پائے جانے پر) صرف ایک بار کمیشن لینا جائز ہے،بشرطیکہ یہ اجرتِ مثل سے زائد نہ ہو۔ ہاں،اگر پہلے طے ہی کم ہوا تھا تو اب وہی ملے گا۔ باقی مہینوں کا کمیشن لیناجائزنہیں؛کہ بعد میں اس کی کوئی محنت و کام شامل نہیں ہوتا۔
(2) اگر زید صرف نمبر یا ایڈریس دے کر بھیج دیتا ہے، نہ ملاقات کرواتا ہے، نہ کوئی بھاگ دوڑ کرتا ہے اور نہ عقد کرواتا ہے تو ایک بار بھی کمیشن لینا جائز نہیں ہے چہ جائیکہ ہر ماہ۔کیونکہ شرعاً کمیشن کے لیے قابلِ قدر محنت، بھاگ دوڑ یا کوئی دیگر قابلِ معاوضہ کام ضروری ہوتا ہے۔یہاں چونکہ اس نے کوئی قابل اجرت کام نہیں کیا، اس لیے کسی ایک مہینے کا بھی کمیشن لینا جائز نہیں۔
کمیشن ایجنٹ کام کرنے پر ہی اجرت کا مستحق ہوگا، ورنہ نہیں جیسا کہ بحر الرائق میں ہے:
”لأن ما يأخذه بطريق الأجرة ولا أجرة بدون العمل “
ترجمہ: کیونکہ اجیر جو کچھ لیتا ہے تو وہ اجرت کے طور پر لیتا ہے اور بغیر کام کے اجرت کا استحقاق ثابت نہیں ہوتا۔(البحر الرائق شرح كنز الدقائق ،جلد 05، صفحہ 264، دارا لکتاب الاسلامی، بیروت)
مشورہ دینا یا بیٹھے بیٹھے دو چار باتیں کہنا قابلِ معاوضہ کام نہیں جیسا کہ ردالمحتار میں ہے:
’’الدلالۃ والإشارۃ لیست بعمل یستحق بہ الأجر وإن قال علی سبیل الخصوص بأن قال لرجل بعینہ إن دللتنی علی کذا فلک کذا إن مشی لہ فدلہ فلہ أجر المثل للمشی لأجلہ؛ لأن ذلک عمل یستحق بعقد الإجارۃ‘‘
ترجمہ: محض بتانا اور اشارہ کرنا ایسا عمل نہیں ہے جس پر وہ اجرت کا مستحق ہو، اگر کسی نے ایک خاص شخص کو کہا اگر تو مجھے فلاں چیز پر رہنمائی کرے تو اتنا اجر دوں گا، اگر وہ شخص چل کر رہنمائی کرے تو وہ اس چل کر جانے کی وجہ سے اجرتِ مثل کا مستحق ہو گا کیونکہ چلنا ایسا عمل ہے جس پر عقد اجارہ میں اجرت کا مستحق ہوتا ہے۔(ردالمحتار، جلد6،صفحہ95، دارالفکر، بیروت )
اسی طرح امام اہلسنت احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ’’اگر کارندہ نے اس بارہ میں جو محنت و کوشش کی وہ اپنے آقا کی طرف سے تھی، بائع کے لئے کوئی دوا دوش نہ کی، اگرچہ بعض زبانی باتیں اس کی طرف سے بھی کی ہوں، مثلاً آقا کو مشورہ دیا کہ یہ چیز اچھی ہے، خرید لینی چاہیے یا اس میں آپ کا نقصان نہیں اور مجھے اتنے روپے مل جائینگے ، اس نے خرید لی جب تو یہ شخص عمرو بائع سے کسی اجرت کا مستحق نہیں کہ اجرت آنے جانے، محنت کرنے کی ہوتی ہے، نہ بیٹھے بیٹھے دو چار باتیں کہنے، صلاح بتانے، مشورہ دینے کی۔‘‘(فتاوی رضویہ ،جلد 19، صفحہ 452، رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
فتاوی رضویہ میں ہے:”اور اگر بائع کی طرف سے محنت وکوشش ودوادوش میں اپنا زمانہ صَرف کیا تو صرف اجر مثل کا مستحق ہوگا، یعنی ایسے کام اتنی سعی پر جو مزدوری ہوتی ہے اس سے زائد نہ پائے گا اگر چہ بائع سے قرارداد کتنے ہی زیادہ کا ہو، اور اگر قرارداد اجر مثل سے کم کا ہو تو کم ہی دلائیں گے کہ سقوطِ زیادت پر خود راضی ہوچکا،خانیہ میں ہے:
ان کان الدلال الاول عرض تعنٰی وذھب فی ذٰلک روزگارہ کان لہ اجر مثلہ بقدر عنائہ وعملہ۔
اگر روزگار کے سلسلہ میں دلال نے محنت کی اور آیا گیا تو اس کی محنت اور عمل کے مطابق مثلی اجرت ہوگی۔ (ت) (فتاوی رضویہ ،جلد 19، صفحہ 453، رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب :محمد ساجد عطاری
مصدق:مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر :Nrl-0416
تاریخ اجراء :27جمادی الاولٰی1447ھ / 19 نومبر 2025ء