بیوی کی قربانی کا حصہ اپنی گائے میں ڈالنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شوہر اپنے پیسوں سے خریدی ہوئی گائے میں بیوی کی قربانی کا حصہ ڈال سکتا ہے ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر میاں اور بیوی دونوں پر قربانی واجب ہو اور شوہر قربانی کے لیے اپنے پیسوں سے گائے لائے اور اس گائے میں ایک حصہ بیوی کا بھی شامل کر لے تو کیا بیوی کا قربانی کا واجب ادا ہو جائے گا، یا بیوی کو الگ سے قربانی کرنی ہوگی؟
جواب
چھوٹے جانور جیسے بکرا، بکری، بھیڑ، دنبہ صرف ایک ہی شخص کی طرف سے قربان ہو سکتے ہیں، جبکہ بڑے جانور جیسے گائے، بیل اور اونٹ میں سات حصے ہوتے ہیں، اس لیے ان میں زیادہ سے زیادہ سات مختلف افراد کی طرف سے قربانی کی جا سکتی ہے۔ لہذا ایک گائے میں شوہر اور بیوی دونوں کی طرف سے بھی قربانی ہو سکتی ہے۔ بیوی کیلئے الگ سے مکمل گائے یا جُداگانہ بکرا قربان کرنا ضروری نہیں۔
البتہ بیوی کی طرف سے قربانی صحیح ہونے کے لیے اُس کی اجازت ضروری ہے۔ یہ اجازت دو طرح سے ثابت ہو سکتی ہے: ایک صراحۃً، یعنی بیوی واضح الفاظ میں شوہر کو اپنی طرف سے قربانی کی اجازت دیدے۔ دوسری دلالۃً، یعنی ایسا معمول موجود ہو جس سے اجازت سمجھی جائے۔ مثلاً ہر سال شوہر ہی اپنی بیوی کی طرف سے قربانی کرتا ہو اور بیوی کو اس کا علم بھی ہو، تو یہ دلالۃً اجازت شمار ہوگی، لہٰذا اگر شوہر بیوی کو بتا کر گائے میں اُس کا حصہ شامل کرے اور بیوی اجازت دیدے، یا پہلے سے یہی معمول چلا آرہا ہو، تو بیوی کی طرف سے قربانی درست ہو جائے گی اور اس کا واجب ادا ہو جائے گا۔ البتہ اگر نہ تو بیوی نے شوہر کو صراحتاً اجازت دی ہو اور نہ ہی پہلے سے ایسا کوئی معمول ہو، پھر شوہر اپنی طرف سے خود ہی بیوی کا حصہ شامل کر کے قربانی کر دے، تو بیوی کی قربانی ادا نہیں ہوگی، کیونکہ اُس کی طرف سے اجازت ثابت نہیں۔ لہٰذا ایسی صورت میں بیوی پر الگ سے قربانی کرنا لازم ہوگا۔
بھیڑ، بکری صرف ایک کی طرف سے قربان ہو سکتی ہے، جبکہ گائے، بیل اونٹ میں زیادہ سے زیادہ سات لوگوں کی طرف سے قربانی ہو سکتی ہے، چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے: ’’لا يجوز الشاة والمعز إلا عن واحد وإن كانت عظيمة سمينة۔۔۔۔ولا يجوز بعير واحد ولا بقرة واحدة عن أكثر من سبعة ويجوز ذلك عن سبعة أو أقل من ذلك، وهذا قول عامة العلماء۔۔۔ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم «البدنة تجزي عن سبعة والبقرة تجزي عن سبعة» وعن جابر رضي الله عنه قال: «نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة من غير فصل بين أهل بيت وبيتين»‘‘
ترجمہ: بھیڑ اور بکری ایک سے زیادہ افراد کی طرف سے جائز نہیں، اگرچہ وہ بہت بڑی اور فربہ ہی کیوں نہ ہو۔۔۔ اور ایک اونٹ یا ایک گائے سات سے زیادہ افراد کی طرف سے جائز نہیں، البتہ سات یا اس سے کم افراد کی طرف سے جائز ہے، اور یہی جمہور علماء کا قول ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ: اونٹ سات افراد کی طرف سے کافی ہو جاتا ہے اور گائے بھی سات افراد کی طرف سے کافی ہو جاتی ہے۔ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک اونٹ سات افراد کی طرف سے اور ایک گائے سات افراد کی طرف سے قربان کی۔ ایک گھر اور دو گھروں والوں کے درمیان کسی فرق کے بغیر۔ (بدائع الصنائع، جلد 5، صفحہ 70، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
بیوی کی طرف سے بغیر اجازت قربانی جائز نہیں، چنانچہ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے: ’’ولو ضحى عن أولاده الكبار وزوجته لا يجوز إلا بإذنهم.وعن الثاني أنه يجوز استحسانا بلا إذنهم بزازية. قال في الذخيرة: ولعله ذهب إلى أن العادة إذا جرت من الأب في كل سنة صار كالإذن منهم، فإن كان على هذا الوجه فما استحسنه أبو يوسف مستحسن‘‘ ترجمہ: اگر کوئی شخص اپنی بالغ اولاد اور بیوی کی طرف سے قربانی کرے تو یہ ان کی اجازت کے بغیر جائز نہیں، البتہ امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ سے مروی ہے کہ استحساناً ان کی اجازت کے بغیر بھی جائز ہے۔ بزازیہ۔ ذخیرة میں فرمایا: شاید وہ قربانی کے جواز کی طرف اس صورت میں گئے ہیں کہ جب باپ کی طرف سے ہر سال بیٹے کی قربانی کا معمول بن جائے تو یہ ان (بالغ بیٹوں) کی طرف سے اجازت کے قائم مقام ہو گا، لہٰذا اگر معاملہ اسی طرح ہو تو امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے جس کو استحسان فرمایا ہے، وہ واقعی مستحسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 9، صفحہ 524، دارالمعرفۃ، بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’وليس على الرجل أن يضحي عن أولاده الكبار وامرأته إلا بإذنه‘‘ ترجمہ: مرد پر لازم نہیں کہ وہ اپنے بالغ بچوں اور بیوی کی طرف سے قربانی کرے مگر ان کی اجازت کے ساتھ۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 5، صفحہ 293، دارالکتب العلمیہ، بیروت)
دوسرے کی طرف سے قربانی کرنے میں صراحۃً، یا دلالۃ ً اجازت ضروری ہے، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں ’’قربانی و صدقہ فطر عبادت ہے اور عبادت میں نیت شرط ہے، تو بلا اجازت ناممکن ہے۔ ہاں اجازت کے لئے صراحۃً ہونا ضروری نہیں، دلالت کافی ہے، مثلاً زید اس کے عیال میں ہے، اس کا کھانا پہننا سب اس کے پاس سے ہوتا ہے، یا یہ اس کا وکیلِ مطلق ہے، اس کے کاروبار یہ کیا کرتا ہے، ان صورتوں میں ادا ہو جائے گی۔ در مختارمیں ہے: لاعن زوجتہ وولدہ الکبیر العاقل ولوادی عنھما بلااذن اجزأ استحسانا للاذن عادۃ ای لو فی عیالہ ولا فلا قھستانی عن المحیط، فلیحفظ، قلت ومسئلۃ القائم بامورہ بامرہ اظھر وازھر لوجود الا ذن ولو فی ضمن العام۔ وﷲ تعالٰی اعلم۔ بیوی اور عاقل بالغ بیٹے کی طرف سے اس پر(صدقہ فطر) واجب نہیں اور اگر ان دونوں کی طر ف سے اجاز ت کے بغیر ادا کردے تو استحساناً جائز ہے، عادتا ًاجازت کی بناء پر یعنی جب عاقل بالغ بیٹا اس کی عیال میں شامل ہو ورنہ اجازت کے بغیر نہیں۔ یہ قہستانی نے محیط سے نقل کیا ہے۔ تو اس کو محفوط کرلو۔ میں کہتا ہوں اگر وہ بیٹا والد کے کام میں مشغول ہو والد کے حکم سے تو پھر یہ مسئلہ زیادہ ظاہر اور بہتر ہے کیونکہ اذن پایا گیا اگرچہ عام کے ضمن میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 453، 454، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے: ’’بالغ لڑکوں یا بی بی کی طرف سے قربانی کرنا چاہتا ہے تو اُن سے اجازت حاصل کرے بغیر اُن کے کہے اگر کر دی تو اُن کی طرف سے واجب ادا نہ ہوا ‘‘۔ (بھار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 334، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1198
تاریخ اجراء: 28 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 16 مئی 2026ء