logo logo
AI Search

قربانی کے جانور کے دودھ کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قربانی کے جانور کا دودھ استعمال کر سکتے ہیں ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم نے قربانی کے لیے ایک گائے خریدی ہے، جوکہ دودھ دیتی ہے، ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ قربانی کے جانور کا دودھ دوہنا مکروہ ہے، لیکن اگر دودھ دوہے بغیر چارہ نہ ہو اور دودھ دوہ لیا جائے تو کیا اس دودھ کو صدقہ ہی کرنا ضروری ہے یا ہم وہ دودھ استعمال کرکے اس کی قیمت بھی صدقہ کرسکتے ہیں؟ رہنمائی فرمادیں۔

جواب

قوانین شرعیہ کے مطابق ذبح سے پہلے قربانی کے جانور کے کسی بھی جز سے نفع حاصل کرنا مکروہ و ممنوع ہے، جانور کا دودھ بھی اس کا جز ہوتا ہے، لہذا عام حالت میں قربانی کے جانور کا دودھ دوہنے کی بھی اجازت نہیں ہے، بلکہ فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم نے فرمایا کہ جانور کے تھنوں پر ٹھنڈے پانی کا چھڑکاؤ کر دیا جائے، تاکہ تھن خشک ہو جائیں اور اس کا دودھ دوہنا ہی نہ پڑے، البتہ اگر اس سے کام نہ چلے اور دودھ دوہے بغیر چارہ نہ ہو، تو اس صورت میں دودھ نکال کر اسے صدقہ کرنے کا حکم ہے، خود استعمال کرنے کی اجازت نہیں، ہاں اگر اسے استعمال کر لیا یا بیچ دیا ہے، تو اس صورت میں اتنا دودھ یا اس کی قیمت صدقہ کرنے کا حکم ہے۔

بیان کردہ شرعی حکم کے دلائل:

قربانی والے جانور کا دودھ دوہنا مکروہ و ممنوع ہے، چنانچہ علامہ ابو المَعَالی بخاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 616 ھ/1219ء) لکھتےہیں: ”ويكره له أن يحلب الأضحية، ويجز صوفها قبل الذبح، وينتفع به؛ لأن الحلب، والجز يفوّت جزءاً منها، وقد التزم التضحية بجميع أجزائها، فلا يجوز له أن يحبس شيئاً منها“ ترجمہ: قربانی کے جانور کا ذبح سے پہلے دودھ دوہنا اور اس کی اون کاٹنا اور ان سے نفع اٹھانا مکروہ ہے؛ کیونکہ دودھ نکالنا اور اون کاٹنا جانور کے کچھ حصے کو ضائع کرنا ہے، حالانکہ اس نے جانور کے تمام اجزاء کے ساتھ قربانی کرنے کا التزام کیا ہے، لہٰذا اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ قربانی کے جانور کا کوئی حصہ روک لے۔(المحیط البرھانی، جلد 06، صفحہ 94، دار الكتب العلمية، بيروت)

اگر جانور کا دودھ نکالے بغیر گزارا نہ ہو، تو اس صورت کا تفصیلی حکم بیان کرتے ہوئے ملک العلماء علامہ کاسانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”فان کان فی ضرعھا لبن وھو یخاف علیھا ان لم یحلبھا نضح ضرعھا بالماءالبارد حتی یتقلص اللبن لانہ لا سبیل الی الحلب ولاوجہ لابقائھا کذلک لانہ یخاف علیھا الھلاک فیتضرر بہ، فتعین نضح الضرع بالماء البارد لینقطع اللبن فیندفع الضرر، فان حلب تصدق باللبن لأنه جزء من شاة متعينة للقربة ما أقيمت فيها القربة فكان الواجب هو التصدق به“

ترجمہ: اگر قربانی کے جانور کے تھنوں میں دودھ موجود ہو اور اگر دودھ نہ دوہا جائے تو جانور کے ہلاک یا بیمار ہونے کا خوف ہو، تو اُسے چاہیے کہ اُس کے تھنوں پر ٹھنڈا پانی چھڑکے یہاں تک کہ تھن کا دودھ خشک ہو جائے، کیونکہ بلاعذر دودھ دوہنےکی شرع میں کوئی راہ نہیں اور یونہی دودھ کو تھنوں میں باقی رکھنے کی بھی کوئی صورت نہیں ہے، کیونکہ اِس صورت میں جانور کی ہلاکت کا اندیشہ ہے، جس سے اسے ضرر پہنچے گا، لہٰذا تھنوں پر ٹھنڈا پانی ڈالنے کا حکم متعین ہو گیا، تاکہ دودھ روکا جا سکے اور ضرر دور ہو جائے، لیکن اگر دودھ دوہ لیا، تو اُس دودھ کو صدقہ کر دیا جائے، کیونکہ وہ دودھ ایسی بکری کا جز ہے جو قربت کے لیے متعین ہے، حالانکہ اب تک اس سے قربت قائم نہیں کی گئی، لہذا اسے صدقہ کرنا واجب ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 05، صفحہ 78، دار الكتب العلمية)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”جانور دودھ والا ہے تو اُس کے تھن پر ٹھنڈا پانی چھڑکے کہ دودھ خشک ہو جائے اگر اس سے کام نہ چلے، تو جانور کو دوہ کر دودھ صدقہ کرے۔“ (بہارِ شریعت، جلد 3، صفحہ 347، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

دودھ کو خود استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے، ہاں اگر استعمال کر لیا ہو، تو اتنا دودھ یا اس کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہے، چنانچہ درر الحکام شرح غرر الاحکام میں ہے:

”وإن حلب اللبن من الأضحية قبل الذبح أو جز صوفها يتصدق بهما ولا ينتفع بهما وقال في البدائع وإن انتفع تصدق بمثله ‌وإن ‌تصدق ‌بقيمته ‌جاز۔۔۔وقال أيضا وإن باعه تصدق بثمنه“ترجمہ: اگر ذبح سے پہلے قربانی کے جانور کا دودھ دوہ لیا ہو یا اس کی اون کاٹ لی ہو، تو ان دونوں کو صدقہ کرنے کا حکم ہے، خود ان سے نفع نہیں اٹھا سکتے اور بدائع میں فرمایا: اگر خود ان سے نفع اٹھا لیا، تو اس کی مثل صدقہ کرنا ہوگا اور اگر اس کی قیمت کو صدقہ کر دیا، تو یہ بھی جائز ہے، اور اسی طرح فرمایا: اگر اسے بیچ دیا، تو اس کے ثمن کو صدقہ کرے۔ (درر الحکام شرح غرر الاحکام، جلد 01، صفحہ 270، دار إحياء الكتب العربية)

بہار شریعت میں ہے: ”اگر اس نے اون کاٹ لی یا دودھ دوہ لیا تو اسے صدقہ کردے اور اجرت پر جانور کو دیا ہے تو اجرت کو صدقہ کرے۔“ (بہار شریعت، ج 03، ص 347، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0272
تاریخ اجراء: 25 ذو القعدۃ الحرام 1447 ھ /13 مئی 2026ء