بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
چار افراد کا برابر رقم ملا کر جانور قربان کرنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے میں کہ اگر چار افراد مِل کر برابر برابر رقم ڈال کر ایک بڑا جانور مثلاً گائے خرید کر بہ نیّتِ قربانی ذَبْح کریں تو ان کی قربانی ہوجائے گی یا نہیں حالانکہ بڑے جانور میں تو سات حصے ہوتے ہیں؟ نیز ان میں گوشت کی تقسیم کس طرح ہوگی۔
جواب
صورتِ مَسْئُولہ میں ان چار افراد کی قربانی ہوجائے گی کہ گائے، اونٹ وغیرہ جانوروں میں کم اَزکم ہر شخص کا ساتواں حصہ ہونا ضروری ہے اور اس سے زیادہ ہو تو حَرَج نہیں، گوشت وَزْن کر کے برابر برابر تمام شُرَکا میں تقسیم کیا جائے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر 2017