بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
قربانی کی گائے ذبح ہونے سے پہلے بچہ جن دے، تو اس بچے کا کیا حکم ہوگا؟ اس بچہ کو ذبح کر کے خود کھا سکتے ہیں یا اس کا گوشت صدقہ کرنا ہوگا؟ اگر اس گائے میں سات افراد شریک ہوں، تو اب کیا حکم ہوگا؟ اور اگر گائے ذبح کرنے کے بعد بچہ نکلا، تو اس کا کیا حکم ہوگا؟
اگر قربانی کے جانور کو قربان کرنے سے پہلے اس کا زندہ بچہ پیدا ہوا تو گائے کی قربانی کے ساتھ اس کے بچے کو بھی ذبح کردیں، اس صورت میں اگر گائے میں سات حصے دار تھے تو اس بچے میں بھی وہی ساتوں شریک ہوں گے۔ اور اگر بچھڑے کو بیچ دیا تو پھر اس کی قیمت صدقہ کردیں، اور اگربچھڑے کو ذبح نہیں کیا اور نہ ہی اس کو بیچا اور اسی طرح قربانی کے ایام گزر جاتے ہیں، تو پھر اس زندہ بچھڑے کو صدقہ کردیا جائے۔
بہار شریعت میں ہے: قربانی کے لیے جانور خریدا تھا قربانی کرنے سے پہلے اس کے بچہ پیدا ہوا تو بچہ کو بھی ذبح کر ڈالے اور اگر بچہ کو بیچ ڈالا تو اس کا ثمن صدقہ کر دے اور اگر نہ ذبح کیا نہ بیع کیا اور ایام نحر گزر گئے تو اس کو زندہ صدقہ کر دے۔ (بہار شریعت، جلد 03، حصہ 15، صفحہ 347، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اگر قربانی کا جانور ذبح کرنے کے بعد اس کے پیٹ سے بچہ نکلے، تو اگر زندہ ہے تو اس کو بھی ذبح کردیں اور اس کے گوشت کا بھی وہی حکم ہے، جو اس کی ماں کے گوشت کا ہے اور اگر بچہ مردہ ہو تو اس کو پھینک دیں کہ مردار ہے۔ بہار شریعت میں ہے: قربانی کی اور اس کے پیٹ میں زندہ بچہ ہے تو اسے بھی ذبح کردے اور اسے صرف میں لاسکتا ہے اور مرا ہوا بچہ ہو تو اسے پھینک دے مردار ہے۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 348، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1884
تاریخ اجراء: 29 صفرالمظفر 1446ھ / 04 ستمبر 2024ء