logo logo
AI Search

Khassi Janwar ki Qurbani Karna Kaisa?

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خصی جانور کی قربانی کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ قربانی کا جانور خصی کرنا، جائز ہے یا نہیں اور اس کی قربانی ہو جاتی ہے یا نہیں؟ شریعت کی روشنی میں دلائل کے ساتھ وضاحت فرما دیں۔

سائل: محمد آصف علی عطاری (اسلام آباد)

جواب

جانور کو خصی کرنا اور خصی جانور کی قربانی کرنا، جائز ہے، بلکہ دوسرے کی بنسبت خصی جانور کی قربانی افضل ہے کہ اس میں زیادہ ثواب ہے۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود بھی خصی جانور کی قربانی فرماتے تھے۔

چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے مروی ہے:

إن رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم إذا أراد أن یضحی اشتری کبشین عظیمین سمینین أقرنین أملحین موجوأین۔

نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو بڑے، موٹے، سینگوں والے، چتکبرے، خصی کیے ہوئے مینڈھے ذبح فرماتے۔ (ابن ماجہ شریف، ص 225، 226، مطبوعہ کراچی)

سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: خصی کی قربانی افضل ہے اور اس میں ثواب زیادہ ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، ص 444، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: خصی کی قربانی غیر خصی سے افضل ہے۔ تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے:

و یصح بالجماء و الخصی و عن أبی حنیفۃ ھو أولی لأن لحمہ أطیب

غرر الاحکام میں ہے:

و صح الجماء و الخصی

شرنبلالیہ میں بدائع سے ہے:

و أفضل الشاۃ أن یکون کبشا أملح أقرن موجوأ

مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے:

و یجوز الخصی و عن الإمام أن الخصی أولی لأن لحمہ ألذ و أطیب (فتاوی امجدیہ، جلد 2، حصہ 3، ص 304، مکتبہ رضویہ، کراچی)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: مستحب یہ ہے کہ قربانی کا جانور خوب فربہ اور خوبصورت اور بڑا ہو اور بکری کی قسم میں سے قربانی کرنی ہو تو بہتر سینگ والا مینڈھا چتکبرا جس کے خصیے کوٹ کر خصی کر دیا ہو کہ حدیث میں ہے: حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے ایسے مینڈھے کی قربانی کی۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، ص 344، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Book-165
تاریخ اجراء: 11 ذو القعدۃ الحرام 1430ھ / 31 اکتوبر 2009ء