logo logo
AI Search

بچے کا عقیقہ کرنے سے والدین کا عقیقہ ادا ہو جاتا ہے؟

کیا بچے کا عقیقہ والدین کی  طرف سے کفایت کرے گا؟

دارالافتاء اہلسنت عوت اسلامی)

سوال

بچے کا عقیقہ کیا تو کیا اس میں والدین کا عقیقہ بھی ہو جاتا ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

بچے کا عقیقہ کرنے سے والدین کا عقیقہ ادا نہیں ہوتا، کیونکہ عقیقہ ہر شخص کی طرف سے الگ الگ ہوتا ہے، جیسے قربانی ہے کہ ہر ایک کی طرف سے علیحدہ علیحدہ کی جائے گی، ایک کی قربانی سے دوسرے کی قربانی ادانہیں ہوگی۔

  امام اہل سنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”عقیقہ کے احکام مثل اضحیہ ہیں۔ اس سے بھی مثل اضحیہ تقرب الی اللہ عزوجل مقصود ہوتا ہے۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد20، صفحہ501، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مزید فرماتے ہیں: ”ایک قربانی نہ سب کی طرف سے ہو سکتی ہے، نہ سوا مالکِ نصاب کے کسی اور پر واجب ہے، اگر اس کی بالغ اولاد میں کوئی خود صاحبِ نصاب ہو، تو وہ اپنی قربانی جدا کرے۔ یونہی زکوۃ جس جس پر واجب ہے یہ الگ الگ دیں، ایک کی زکوۃ سب کی طرف سے نہیں ہو سکتی، جو چیز شرعا واجب نہیں مثلا صدقہ نفل ومیلاد مبارک وہ بھی ایک کے کرنے سے سب کی طرف سے قرار نہ پائے گا، ہاں کرنے والا ہر ایک کا اگرچہ فرض ہو اپنی اولاد اور گھر والوں جن کو چاہے پہنچا سکتا ہے۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد20، صفحہ369، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد حسان عطاری مدنی

فتوی نمبر:WAT-4541

تاریخ اجراء:23جمادی الثانی1447ھ/15دسمبر2025ء