logo logo
AI Search

محرم الحرام میں قربانی کا گوشت کھانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

محرم الحرام میں قربانی کا گوشت کھانا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے گھر میں قربانی کا گوشت پڑا ہوا ہے۔ چند دن پہلے میرا ایک عزیز گھر میں آیا اس نے بتایا کہ قربانی کا گوشت محرم سے پہلے پہلے ختم ہوجانا چاہئے محرم میں قربانی کا گو شت کھانا گناہ ہے۔ میری رہنمائی فرمائیں کہ قربانی کا گوشت کب تک کھا سکتے ہیں کیا واقعی محرم میں کھانا گناہ ہے؟

جواب

مستحب یہ ہے کہ قربانی کے گوشت میں سے خود بھی کھائے اور دوسروں کو بھی کھلائے اور افضل یہ ہے کہ سارے گوشت کے تین حصّے کئے جائیں ایک حصّہ فُقَرا کو اور ایک حصّہ دوست و احباب کو دے اور ایک حصّہ اپنے گھر والوں کیلئے رکھ لے۔ اگر سارا گوشت اپنے گھر میں رکھا اور استعمال کرلیا تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں اور جب تک چاہیں رکھ سکتے ہیں استعمال کرسکتے ہیں محرم سے پہلے پہلے ختم کرنا شرعاً ضروری نہیں، ابتداءِ اسلام میں تین دن سے زیادہ رکھنے کی ممانعت تھی جو بعد میں منسوخ ہوگئی۔ لہٰذا قربانی کرنے والا یا جسے وہ دے جب تک چاہیں استعمال کرسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ محرم میں قربانی کا گوشت کھانے کو گناہ کہنا اٹکل سے بغیر تحقیق کے غلط مسئلہ بتانا ہے جو بلاشبہ ناجائز و گناہ ہے اس لئے کہنے والے پر توبہ واجب ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر / اکتوبر 2018ء