Mukhtalif Afrad Ki Qurbani Ke Liye Bakrian Muayyan Karna
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا گھر کے متعدد افراد کی قربانیوں کے لیے ہر بکری کا معین ہونا ضروری ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ گھر کے پانچ افراد نے قربانی کرنی ہو اور وہ پانچ بکریاں خریدیں، توکیا معیّن کرنا ضروری ہے کہ فلاں بکری فلاں کی طرف سے ہے یا صرف اتنی نیت بھی کافی ہے کہ یہ پانچ بکریاں ہم پانچ افراد کی طرف سے ہیں یعنی ہر ایک کی طرف سے ایک بکری، توکیا اس نیت سے قربانی کریں، تو قربانی ہو جائے گی؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں یہ معیّن کرنا ضروری نہیں کہ فلاں بکری فلاں کی طرف سے ہے، بلکہ صرف اتنی نیت ہی کافی ہے کہ یہ پانچ بکریاں اس طور پرہم پانچ افراد کی طرف سے قربان کی جارہی ہیں کہ ہرفرد کی طرف سے ایک بکری ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں سب کی قربانیاں ہو جائیں گی۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
عن ابی یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ رجل لہ تسعۃ من العیال و ھو العاشر فضحی بعشر من الغنم عن نفسہ وعن عیالہ و لاینوی شاۃ بعینھا لکن ینوی العشرۃ عنھم و عنہ جاز فی الاستحسان و ھو قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالیٰ کذا فی المحیط
ترجمہ: امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ سے روایت ہے کہ ایک شخص کےاہل و عیال کے نو افراد ہیں اور وہ خود دسواں ہے، تو اُس نے دس بکریاں اپنے اور اپنے اہل و عیال کی طرف سے قربان کیں اورمعیّن طور پر نیت نہ کی (کہ فلاں بکری فلاں کی طرف سے ہے) لیکن یہ نیت کی کہ یہ دس بکریاں سب اہل و عیال اور اُس کی طرف سے ہیں، تو یہ قربانی استحساناً جائز ہے اور امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کا بھی یہی قول ہے، اسی طرح محیط میں ہے۔ (فتاوی عالمگیری، ج 5، ص 371، مطبوعہ کراچی)
صدر الشریعۃ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ایک شخص کے نو بال بچے ہیں اور ایک خود، اوس نے دس بکریوں کی قربانی کی اور یہ نیت نہیں کہ کس کی طرف سے کس بکری کی قربانی ہے، مگریہ نیت ضرور ہےکہ دسوں بکریاں ہم دسوں کی طرف سے ہیں، یہ قربانی جائز ہے، سب کی قربانیاں ہو جائیں گی۔ (بہار شریعت، ج 3، حصہ 15، ص 349، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Book-160
تاریخ اجراء: 24 ذوالحجۃ الحرام1440ھ / 28 جولائی2019ء