Bakre Ke Pedaishi Seeng Na Hon To Qurbani Ka Hukum
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بکرے کے پیدائشی سینگ نہ ہوں، تو قربانی کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے پاس ایک گھر کا پالا ہوا بکرا ہے۔ جب وہ پیدا ہوا تھا، تو اسی وقت یہ نیت تھی کہ اس کی قربانی کروں گا۔ ابھی وہ تقریباً آٹھ ماہ کا ہو چکا ہے اور بڑی عید تک ایک سال سے زیادہ عرصے کا ہو جائے گا، لیکن ابھی تک اس کے سینگ نہیں نکلے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی جگہ کسی اور کی قربانی کردیں، کیونکہ اس کے سینگ نہیں نکلے۔ براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ جس بکرے کے سینگ نہ ہوں کیا اس کی قربانی نہیں ہوتی؟ اگر نہیں ہوتی تب بھی بتادیں، تاکہ میں اس کی جگہ کسی اور بکرے کی قربانی کرلوں۔
جواب
جس بکرے کے پیدائشی سینگ نہ ہوں، اس کی قربانی بلا شبہ جائز ہے، جبکہ اس میں قربانی کی دیگر شرائط موجود ہوں۔
فقہ حنفی کی مشہور کتاب الہدایہ میں ہے:
و یجوز ان یضحی بالجماء و ھی التی لا قرن لھا، لان القرن لا یتعلق بہ مقصود
ترجمہ:جماءکی قربانی جائز ہے اور جماء ایسا جانور کہلاتا ہے، جس کے سینگ نہ ہوں، کیونکہ سینگوں کے ساتھ مقصود کا تعلق نہیں ہوتا۔ (الہدایہ، کتاب الاضحیہ، ج 4، ص 448، مطبوعہ لاہور)
اور صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ ارشاد فرماتے ہیں:جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں، اس کی قربانی جائز ہے۔ (بہارِ شریعت، ج 3، ص 340، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Book-163
تاریخ اجراء: 06 ربیع الاول1440ھ / 15نومبر 2018ء