قسطوں پر لیے ہوئے پلاٹ کی وجہ سے قربانی کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قسطوں پر خریدے ہوئے پلاٹ کی وجہ سے قربانی کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بیچنے کی نیت سے قسطوں پر 5 مرلے کا پلاٹ خریدا مگر اب نیت یہ ہے کہ اگر بِک گیا تو ٹھیک لیکن اگر نہ بِکا تو خود استعمال کر لیں گے اور ابھی اس کی قسطیں بھی مکمل نہیں ہوئیں ہیں۔ آدھی ہوئی ہیں اور آدھی باقی ہیں تو کیا قربانی واجب ہو گی؟ یہ پلاٹ ضرورت کے علاوہ ہے۔ باقی اپنا گھر ہے جو ضرورت کا ہے اور سونے کی ایک انگوٹھی ہے جو زوجہ کی ملک ہے تو کیا قربانی واجب ہو گی؟
جواب
قربانی واجب ہونے کیلئے تجارتی پلاٹ ہونا (یعنی جس کو بیچنے کی نیت سے خریدا گیا ہو) ضروری نہیں بلکہ پلاٹ چاہے تجارتی ہو یا رہائش کی نیت سے لیا جانے والا ہو، بہر صورت اگر قرض اور حاجت اصلیہ سے زائد اتنی مالیت کا ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کو پہنچے تو قربانی واجب ہوتی ہے۔ پوچھی گئی صورت میں یہ پلاٹ فی الحال حاجتِ اصلیہ (رہنے کے مکان) سے زائد ہے، لہذا اگر قرض اور اس پلاٹ کی بقیہ قسطوں کو نکال کر پلاٹ کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کو پہنچے، یا قسطیں وغیرہ نکال کر تنہا قیمت تو نصاب کو نہ پہنچے لیکن آپ کے پاس کچھ سونا چاندی، یا حاجت اصلیہ سے زائد اضافی رقم موجود ہو تو اس کے ساتھ مل کر، یا اگر کوئی اضافی سامان حاجت سے زائد موجود ہو تو اس کے ساتھ مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچے اور عموما ان ہی صورتوں میں سے کوئی صورت پائی جاتی ہے تو ان صورتوں میں آپ پر قربانی واجب ہوگی، ورنہ نہیں۔
باقی سونے کی انگوٹھی جو آپ کی زوجہ کی ملکیت میں ہے، تو اس کا آپ پر قربانی واجب ہونے نہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔ انگوٹھی کا آپ کی زوجہ کے مالکِ نصاب ہونے میں اعتبار کیا جائے گا۔
قربانی کے نصاب سے متعلق بدائع الصنائع میں ہے: ”فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه و مالا يستغنی عنه وهو نصاب صدقة الفطر“ ترجمہ: (قربانی واجب ہونے کیلئے) مالداری کا اعتبار ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کی ملکیت میں دو سو درہم (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی) یا بیس دینار (یعنی ساڑھے سات تولہ سونا) ہو یا (حاجت اصلیہ جیسے) رہنے کا گھر، گھریلو خانہ داری کے سامان، کپڑے، خادم، گھوڑا، ہتھیار اور وہ اشیاء جن کے بغیر گزارہ نہ ہو، کے علاوہ کوئی ایسی چیز ہو جس کی قیمت اِس (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولے سونے) تک پہنچتی ہو، (تو ایسے شخص پر قربانی واجب ہے) اور یہ ہی صدقہ فطر کا نصاب ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 6، کتاب التضحیۃ، صفحہ 283، دار الکتب العلمیہ بیروت)
صدقہ فطر و قربانی میں مالِ نامی ہونا شرط نہیں، لہذا قربانی واجب ہونے کیلئے تجارتی پلاٹ ہونا ہی ضروری نہیں، چنانچہ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ’’(تجب علی کل مسلم ذی نصاب فاضل عن حاجتہ الاصلیۃ وان لم ینم وبہ) أی بھذا النصاب (تحرم الصدقۃ) کما مر و تجب الاضحیۃ‘‘ ترجمہ: صدقہ فطر ہر ایسے مسلمان پر واجب ہے جو حاجت اصلیہ سے زائد نصاب والا ہو، اگرچہ وہ نصاب مالِ نامی نہ ہو۔ اور اسی نصاب کی وجہ سے صدقات واجبہ لینا حرام ہوتا ہے جیسا کہ بیان ہوا اور اسی نصاب کی وجہ سے قربانی واجب ہوگی۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 3، باب صدقۃ الفطر، صفحہ 365، دارالمعرفۃ، بیروت)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’مقدارِ نصاب سب کے لیے ایک ہے کچھ فرق نہیں، ہاں زکوٰۃ میں مالِ نامی ہونا شرط ہے کہ سونا چاندی، چرائی پر چھوٹے جانور، تجارت کا مال ہے و بس، اور سال گزرنا شرط ہے، صدقہ فطر و قربانی میں یہ کچھ درکار نہیں کما فی جمیع الکتب (جیسا کہ سب کتابوں میں ہے)‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 294، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی بہار شریعت میں فرماتے ہیں: ”جو شخص دو سو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت دو سو درہم ہو وہ غنی ہے اوس پر قربانی واجب ہے۔ حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے، ان کے سوا جو چیزیں ہوں، وہ حاجت سے زائد ہیں۔ اوس شخص پر دَین (قرض) ہے اور اوس کے اموال سے دَین کی مقدار مُجرا (مائنس) کی جائے تو نصاب نہیں باقی رہتی اوس پر قربانی واجب نہیں‘‘۔ (بھارِ شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 333، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
حاجت سے زائد مکان، پلاٹ جب خود یا دوسرے مال سے مل کر نصاب کو پہنچے تو قربانی واجب ہوگی، جیسا کہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے فتاویٰ رضویہ میں سوال ہوا کہ اگر زید کے پاس مکان سکونت (رہنے کے مکان) کے علاوہ دو ایک اور (مکان) ہوں تو اس پر قربانی واجب ہے یا نہیں؟
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب ارشاد فرمایا: ’’واجب ہے جبکہ وہ مکان تنہا یا اس کے اور مال سے کہ حاجت اصلیہ سے زائد ہو مل کر چھپن روپے کی قیمت کو پہنچیں، اگر چہ مکانوں کو کرایہ پر چلاتا ہو، یا خالی پڑے ہوں یا سادی زمین ہو بلکہ مکانِ سکونت اتنا بڑا ہے کہ اس کا ایک حصہ اس کے جاڑے (سردی اور) گرمی کی سکونت کے لئے کافی ہو اور دوسرا حصہ حاجت سے زائد ہو اور اس کی قیمت تنہا یا اسی قسم کے مال سے مل کر نصاب تک پہنچے جب بھی قربانی واجب ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 361، رضافاونڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1168
تاریخ اجراء: 03 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 21 مئی 2026ء