logo logo
AI Search

جس جانور کے سینگ نکال دئیے گئے ہوں اس کی قربانی

جس جانور کے سینگ نکال دئیے گئے ہوں  اس کی قربانی

مجیب:مفتی فضیل صاحب مدظلہ العالی

تاریخ اجراء:ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر 2017

دَارُالاِفْتَاء اَہْلسُنَّت

(دعوت اسلامی)

سوال

     کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی نے قربانی کا ایسا جانور خریدا جس کے سینگ جَڑ سے نکا ل دیے گئے تھے ،پھر اس کا زَخْم بھر کر ٹھیک ہو گیا اور وہاں کھال(Skin)جُڑ کر مکمل ٹھیک ہو گئی تو اب کیا ایسےجانور کی قربانی ہو جائے گی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

     پوچھی گئی صورت میں ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔تفصیل اس مسئلہ میں یہ ہے کہ جس جانور کا سینگ ٹوٹ گیا ہو، اگر سرکے اوپر والا حصّہ ٹوٹا ہوجو ظاہر ہوتا ہے تو قربانی جائز ہے اور اگرسر کے اندر جَڑ تک ٹوٹے تو قربانی جائز نہیں لیکن اس صورت میں اگر سر کازَخْم بھر جائے جیساکہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے تو اب قربانی جائز ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم