Walid Ka Sahib e Nisab Baligh Aulad ki Taraf Se Qurbani Karna
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
والد کا اپنی صاحبِ نصاب بالغ اولاد کی طرف سے قربانی کرنے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص جس کی بالغ اولاد صاحب نصاب بھی ہے، تو اس صورت میں والد اپنی بالغ اولاد کی طرف سے قربانی کرسکتا ہے یا نہیں؟
سائل: راشد حسین (فیصل آباد)
جواب
پوچھی گئی صورت میں جبکہ اولاد بالغ اور صاحب نصاب ہے، تو والد کو اپنی بالغ اولاد کی طرف سے قربانی کرنے کے لیے ان کی اجازت ضروری ہے، البتہ اگر والد کی بالغ اولاد اسی کی پرورش میں تھی اور والد نے ان کی اجازت کے بغیر قربانی کردی، تو دلالۃً اجازت ہونے کی وجہ سے والد کا بالغ اولاد کی طرف سے قربانی کرنا استحساناً جائز ہے۔ چنانچہ در مختار میں بیوی بچوں کی جانب سے قربانی کرنے کے بارے میں ہے:
لا عن زوجتہ و ولدہ الکبیر العاقل و لو ادی عنھما بلا اذن اجزأ استحسانا للاذن عادۃ ای لو فی عیالہ و الا فلا
یعنی: بیوی اور عاقل بالغ بیٹے کی طرف سے اس پر واجب نہیں اور اگر ان دونوں کی طرف سے اجازت کے بغیر اد کردے تو استحساناً جائز ہے عادۃً اجازت کی وجہ سے یعنی جب عاقل بالغ بیٹا اس کی عیال میں شامل ہو اور اگر عیال میں نہ ہو، تو اجازت کے بغیر جائز نہیں۔(در مختار مع رد المحتار، ج 3، ص 370، مطبوعہ کوئٹہ)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن دوسرے کی جانب سے قربانی کرنے کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں قربانی و صدقہ فطر عبادت ہے اور عبادت میں نیت شرط ہے، تو بلا اجازت ناممکن ہے۔ ہاں اجازت کے لیے صراحۃ ہونا ضروری نہیں دلالت کافی ہے۔ مثلا زید اس کے عیال میں ہے اس کا کھانا پہننا سب اس کے پاس سے ہوتا ہے۔ یا یہ اس کا وکیل مطلق ہے۔ اس کے کاروبار یہ کیا کرتا ہے۔ ان صورتوں میں ادا ہوجائے گی۔ (فتاوی رضویہ، ج 20، ص 453، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Book-158
تاریخ اجراء: 11محرم الحرام1437ھ / 13اکتوبر 2016ء