حج بدل کی باقی تمام شرائط پائی جائیں تو عورت، مرد کی طرف سے اور مرد، عورت کی طرف سے حج بدل کرسکتا ہے البتہ افضل یہ ہے کہ ایسے شخص کو بھیجیں جو حج کے طریقے اور اُس کے افعال سے آگاہ ہو اور بہتر یہ ہے کہ مرد ہو اور اگر عورت یا مراہق یعنی قریب البلوغ بچے سے حج کرایا جب بھی ادا ہو جائے گا۔
بخاری شریف میں ہے کہ ایک عورت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:
”إِنَّ فَرِيضَةَ اللہِ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ “
یعنی: ﷲ کے فریضہ نے جو حج کے متعلق بندوں پر ہے میرے باپ کو بہت بڑھاپے میں پایا ہے جو سواری پر بیٹھ نہیں سکتا تھا تو کیا میں اس کی طرف سے حج کرلوں؟ فرمایا: ہاں۔یہ واقعہ حجۃ الوداع میں ہوا۔ (صحیح بخاری، حدیث 1855، صفحہ 292، مطبوعہ: ریاض)
اس حدیث کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں: ”عورت مرد کی طرف سے حج کرسکتی ہے اگرچہ مرد و عورت کے طریقہ حج میں قدرے فرق ہوتاہے۔“ (مرآۃ المناجیح، جلد4، صفحہ 89، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
بہار شریعت میں ہے: ”افضل یہ ہے کہ ایسے شخص کو بھیجیں جو حج کے طریقے اور اُس کے افعال سے آگاہ ہو اور بہتر یہ ہے کہ آزاد مرد ہو اور اگر آزاد عورت یا غلام یا باندی یا مراہق یعنی قریب البلوغ بچہ سے حج کرایا جب بھی ادا ہو جائے گا۔“ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 1204، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2347
تاریخ اجراء:28ذو القعدۃالحرام1446ھ/26مئی2025ء