logo logo
AI Search

عمرے کے دنوں میں میاں بیوی کا ہوٹل میں ہمبستری کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

میاں بیوی کا ایام عمرہ میں ہوٹل کے اندر ہمبستری کرنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میاں بیوی کا ایام عمرہ میں ہوٹل کے اندر ہمبستری کرنا کیسا ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں اگر کوئی مانع شرعی مثلا حالتِ احرام یا عورت کے ایام مخصوصہ نہ ہوں تو میاں بیوی کا ایام عمرہ میں ہوٹل کے اندر ہمبستری کرنا جائز ہے۔

چنانچہ قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے:

وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِؕ-قُلْ هُوَ اَذًىۙ-فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِۙ-وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ

ترجمہ کنزالایمان: اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم تم فرماؤ وہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں۔ (پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیت 222)

فتاوی رضویہ میں ہے کلیہ یہ ہے کہ حالتِ حیض و نفاس میں زیر ناف سے زانو تک عورت کے بدن سے بلا کسی ایسے حائل کے جس کے سبب جسم عورت کی گرمی اس کے جسم کو نہ پہنچے تمتع جائز نہیں یہاں تک کہ اتنے ٹکڑے بدن پر شہوت سے نظر بھی جائز نہیں اور اتنے ٹکڑے کا چھُونا بلاشہوت بھی جائز نہیں اور اس سے اوپر نیچے کے بدن سے مطلقاً ہر قسم کا تمتع جائز یہاں تک کہ سحق ذکر کرکے انزال کرنا۔ (فتاوی رضویہ، ج 04، ص 353، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وہ کام جو حالت احرام میں حرام ہیں، ان کے بارے میں امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: (۱) عورت سے صحبت۔ (۲) بوسہ۔ (۳) مساس۔ (۴) گلے لگانا۔ (۵) اُس کی اندام نہانی پر نگاہ، جب کہ یہ چاروں باتیں بشہوت ہوں۔ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 732، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-3279
تاریخ اجراء: 16 جمادی الاولیٰ 1446ھ / 19 نومبر 2024ء