کیا جوتے یا چپل پہن کر طواف کرنا جائز ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
چپل پہن کر طواف کرنا کیسا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا احرام کی حالت میں ایسی چپل پہن کر طواف کرسکتے ہیں جس میں پاؤں کے درمیان والا حصہ کھلا رہتا ہو؟
جواب
چپل اگر استعمالی (Used) ہو تو اُسے پہن کر طواف کرنے کی اجازت نہیں، کیونکہ عام طور پر استعمالی چپلیں مٹی وغیرہ سے آلودہ ہوجاتی ہیں اور اُس پر کسی ناپاک چیزکے لگ جانے کا بھی احتمال ہوتا ہے، پھر مطاف، مسجد الحرام شریف میں واقع ہے اور مسجد میں استعمالی چپل پہن کر جانا ممنوع و ناجائز ہے کہ اس میں مسجد کے آلودہ اور ناپاک ہونے کا قوی اندیشہ ہے، حالانکہ مسجد کو گندگی اور ناپاکی سے بچانے کا حکم ہے، اور چپل اگر غیر استعمالی (New) ہو تو اُسے پہن کر بھی طواف کرنا مناسب نہیں کہ چپل پہن کر طواف کرنا اور یونہی مسجد میں چپل پہن کر جانا خلافِ ادب ہے، ہاں اگر کوئی عذر ہو جیسے ننگے پیر طواف کرنے سے پاؤں سوجنے یا اس میں تکلیف ہونے کا اندیشہ ہو تو اب رخصت ہے لیکن پھر بھی موٹے موزے وغیرہ (جس میں قدم کا درمیانی حصہ کھلا رہے) استعمال کرنا بہتر ہے کہ دیکھنے والوں کوکیا معلوم کہ عذر ہے یا نہیں؟ تو وہ بدگمانی کا شکار ہوں گے۔
چپل پہن کر طواف کرنے کے متعلق، لباب المناسک اور اسکی شرح میں ہے "و الطواف فی نعل أو خف اذا کانا طاھرین) أی و الا فیکون مکروھا … لکن فی النعلین - و لو طاھرین - ترک الادب کما ذکرہ فی البدائع، الا انہ محمول علی حال عدم العذر‘‘ ملتقطاً" ترجمہ: چپل یا موزے (جس میں قدم کا درمیانی حصہ کھلا ہو) میں طواف کرنا جائز ہے جبکہ وہ پاک ہوں، ورنہ (اگر وہ ناپاک ہوں تو اب) اس میں طواف کرنا مکروہ ہے، لیکن چپل پہن کر طواف کرنے میں ترکِ ادب ہے اگرچہ وہ پاک ہوں، جیسا کہ بدائع میں اس کو ذکر کیا ہے اوروہ عذر نہ ہونے کی حالت پر محمول ہے۔ (لباب المناسک مع شرحہ، باب انواع الاطوفۃ، صفحہ 232، مطبوعہ: مکۃ المکرمۃ)
اسی لباب المناسک اور اسکی شرح میں ہے "(و الطواف متنعلا ترک الادب) أی المستفاد من قولہ تعالی فاخلع نعلیک الا لضرورۃ التعب" ترجمہ: چپل پہن کر طواف کرنا ترک ادب ہے۔ اور یہ (ترک ادب ہونا) اللہ تعالی کے اس قول سے مستفاد ہوتا ہے کہ تو اپنے جوتے اتار دے، مگر یہ کہ پا ؤں تھکنے کی ضرورت کی وجہ سے پہنے۔ (لباب المناسک مع شرحہ، باب انواع الاطوفۃ، صفحہ 237، مطبوعہ: مکۃ المکرمۃ)
استعمالی چپل پہن کر مسجد میں جانے کے متعلق، فتاوی رضویہ میں ہے: مسجد میں تو استعمالی جوتے پہنے جانا ہی ممنوع و ناجائز ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 377، رضا فاؤنڈیشن: لاہور)
مسجد میں غیر استعمالی چپل پہن کر جانا بھی خلاف ادب ہے، جیسا کہ فتاوی رضویہ ہی میں ہے: مسجد میں جوتا پہن کرجانا خلاف ادب ہے۔ رد المحتار میں ہے "دخول المسجد متنعلا سوء الادب" ترجمہ: مسجد میں جوتا پہن کرداخل ہونا بے ادبی ہے ادب کی بناعرف ورواج ہی پرہے اور وہ اختلاف زمانہ و ملک و قوم سے بدلتا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 392، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1714
تاریخ اجراء: 17 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ / 06 جون 2023ء