حاجی تلبیہ پڑھنا کب موقوف کریگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حاجی تلبیہ پڑھنا کب موقوف کرے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

مفرد اور قارن حج میں کب تلبیہ پڑھنا موقوف کریں گے؟

جواب

مفرد و قارن اور متمتع حاجی حج کا احرام باندھنے کے بعد جب پہلی کنکری شیطان کو ماریں اس وقت تلبیہ پڑھنا موقوف کردیں۔

رد المحتار میں ہے:

(و قطع التلبية بأولها) أي في الحج الصحيح و الفاسد مفردا أو متمتعا أو قارنا

یعنی حاجی رمی کی ابتدا میں تلبیہ پڑھنا ختم کردے گا یعنی حجِ صحیح و فاسد میں خواہ حاجی مفرد ہو، متمتع ہو یا قارن ہو۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 3، صفحہ 607، مطبوعہ: بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عابد عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2310

تاریخ اجراء: 28 ربیع الاول1447ھ / 22 ستمبر2025ء