عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد حیض آگیا تو کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عمرہ کا احرام باندھ لیا لیکن روانگی سے پہلے حیض آگیا، تو حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کسی خاتون نے عمرہ کی نیت سے احرام باندھ لیا، نفل بھی ادا کر لئے اور تلبیہ بھی کہہ لیا، لیکن جانے سے چند منٹ پہلے اسے حیض آنا شروع ہوگیا، تو کیا اس پر اس عمرہ کی قضا لازم ہوگی اور دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر حیض کی حالت میں مدینہ منورہ حاضری ہو، تو کیا مسجدِ نبوی کے صحن میں جا سکتی ہے؟
جواب
احرام باندھ لینے کے بعد حیض آجانے سے احرام کی پابندیاں ختم نہیں ہوتی، نہ ہی اس وجہ سے عمرہ کی قضا کرنی ہوتی ہے، بلکہ ایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ عورت عمرہ پر جائے اور ہوٹل وغیرہ میں ہی رہے، مسجد حرام یا کسی بھی مسجد میں داخل نہیں ہوسکتی نہ ہی طواف وغیرہ کرسکتی ہے بلکہ اپنے پاک ہونے کا انتظار کرے، اس دوران احرام کی پابندیاں لازم رہیں گی، پھر جب پاک ہوجائے، تو غسل کرکے تمام افعالِ عمرہ ادا کرکے عمرہ مکمل کرے۔
یہی حکم مدینہ شریف جاکر مسجد نبوی علی صاحبہا الصلوٰۃ و السلام کی حاضری کا ہے کہ ناپاکی کی حالت میں اندورنِ مسجد نہیں جاسکتی۔ البتہ مسجد نبوی شریف کے بیرونی صحن (یعنی فنائے مسجد یا خارج مسجد) میں بیٹھ کر روضہ رسول کی زیارت کرنا چاہے یا وہاں سے سلام پیش کرنا چاہے، تو کر سکتی ہے۔
مزید تفصیل کیلئے درج ذیل لنک پر کلک کرکے تفصیلی فتاویٰ ملاحظہ کیجئے:
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1855
تاریخ اجراء: 16 صفر المظفر 1446ھ / 22 اگست 2024ء