حالت احرام میں بغیر شہوت عورت کو چھونے سے دم کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حالتِ احرام میں بلا شہوت کسی عورت کو چھو لیا تو کیا دم لازم آئے گا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک عورت حج کے موقع پر جمروں کو کنکریاں مارتے وقت گرنے لگی تو اس کے پیچھے ایک شخص نے حالت احرام میں اس کی مدد کی اور اسے گرنے سے بچانے کی نیت سے پکڑا لیکن اس دوران بغیر شہوت کے اس کے سینہ پر ہاتھ لگ گیا تو ایسی صورت میں ایسے شخص پر دم لازم آئے گا؟
جواب
جب سوال میں مذکور مُحرم شخص نے عورت کو گرنے سے بچانے کی نیت سے پکڑا اور اسی دوران بغیر شہوت اس کا ہاتھ عورت کے سینہ پر لگا تو ایسی صورت میں اس محرم شخص پر دم لازم نہیں آئے گا کہ حالت احرام میں عورت کے بدن کو شہوت کے ساتھ چھونے کی صورت میں دم لازم آتا ہے جبکہ مذکورہ صورت میں اس نے عورت کو گرنے سے بچانے کی نیت سے چھوا ہے نہ کہ شہوت کے ساتھ۔
مناسکِ ملا علی قاری میں ہے ”(و لو قبّل امرأته مودعاً لها إن قصد الشهوة) أي: بتقبيل المرأة (فعليه الفدية، و إلا) بأن قصد الموادعة (فلا) أي: فلا فدية عليه (و إن كان قال: لا قصدت هذا) أي: هذا الأمر من الشهوة (و لا ذاك) أي قصد الوداع (لا يجب شيء) لأن الشرط تحقق الشهوة، و عند عدم قصد يوجب الشبهة“ ترجمہ: اور اگر شوہر نے اپنی بیوی کو رخصت کرتے ہوئے اس کا بوسہ لیا، اگر شہوت کے ساتھ ہو، تو اس پر کفارہ لازم ہے اور اگر صرف رخصت کرنا مقصود ہو (شہوت کا قصد نہ ہو) تو کفارہ لازم نہیں اگر وہ یہ کہے کہ میرا مقصود نہ شہوت تھا اور نہ ہی وداع کرنا مقصد تھا، تو کچھ لازم نہیں ہوگا، کیونکہ اس فعل سے کفارہ لازم ہونے میں شہوت کا پایا جانا شرط ہے اور اس کا قصد نہ ہونا شبہ پیدا کردے گا، (اس لیے کفارہ بھی نہیں ہوگا)۔ (ارشاد الساری الی مناسک الملا علی قاری، فصل فی دواعی الجماع، صفحہ 487، مطبوعہ: پشاور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مباشرتِ فاحشہ اور شہوت کے ساتھ بوس و کنار اور بدن مس کرنے میں دَم ہے، اگرچہ انزال نہ ہو اور بلا شہوت میں کچھ نہیں۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1172، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4373
تاریخ اجراء: 06 جمادی الاولی 1447ھ / 29 اکتوبر 2025ء