احرام میں پردہ چہرے پر لگ جائے تو شرعی حکم کیا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احرام میں پردہ چہرے کی ایک طرف لگ گیا، تو کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
احرام کی حالت میں بس میں سوار تھے، کھڑکی والی سائیڈ پر بیٹھے تھے، دورانِ سفر کھڑکی پر لگا پردہ چہرے کی ایک طرف کچھ حصہ پر مس ہوگیا، تو اب کیا کرنا ہوگا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں اگر اس پردے سے چہرے کا چوتھائی یا اس سے زائد حصہ چھپ گیا تھا تو صدقہ لازم ہے، (یہ صدقہ صدقہ فطر کی طرح ہوگا اور قیمت میں وہاں کا اعتبار کریں گے اور اپنے ملک میں واپس آکر بھی دیا جاسکتا ہے) اور اگر چہرہ چوتھائی سے کم چھپا تھا تو کچھ لازم نہیں ہے، البتہ اگر یہ کام قصداً ہوا تو گناہ ہوگا۔
بہار شریعت میں ہے: مرد یا عورت نے مونھ کی ٹکلی ساری یا چہارم چھپائی یا مرد نے پورا یا چہارم سر چھپایا تو چار پہر یا زیادہ لگاتار چھپانے میں دَم ہے اور کم میں صدقہ اور چہارم سے کم کو چار پہر تک چھپایا تو صدقہ ہے اور چار پہر سے کم میں کفارہ نہیں مگر گناہ ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1169، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-1919
تاریخ اجراء: 15 ربیع الاوّل 1446ھ / 20 ستمبر 2024ء