بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ عمومی طور پر جب شادی ہوتی ہے تو عورت کو جہیز اور جیولری ملتی ہے، یوں ہی شوہر کے گھر والوں کی طرف سے بھی تحائف اور جیولری دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جہیز اور جیولری وغیرہ کی وجہ سے اس پر حج فرض ہو جاتا ہے یا نہیں؟
پوچھی گئی صورت میں محض جہیز اور زیورات مل جانے سے عورت پر حج فرض نہیں ہو جاتا، بلکہ حج فرض ہونے کے لیے دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ مناسب سفر خرچ اور سواری پر قادر ہونا بھی شرط ہے، یعنی وہ حاجتِ اصلیہ سے زائد اتنے مال کی مالک ہو کہ اس سے حج پر جانے سے واپس آنے تک سواری، رہائش اور کھانے پینے وغیرہ کے ضروری اخراجات ادا کر سکے، لہذا اگر جہیز، تحائف اور جیولری وغیرہ عورت کی ملکیت میں آ کر اسے حاجت اصلیہ کے علاوہ واقعی اس قدر مال کا مالک بنا دیں کہ وہ حج کے مذکورہ اخراجات برداشت کرنے پر قادر ہو جائے اور باقی شرائط بھی پائی جائیں تو اس پر حج فرض ہو جائے گا۔ تاہم چونکہ عورت کے لیے بغیر شوہر یا محرم کے بانوے کلو میٹر یا اس سے زیادہ کا سفر بحکمِ حدیث ممنوع و ناجائز ہے، اس لیے حج فرض ہونے کے باوجود اس کی ادائیگی عورت پر اسی وقت لازم ہوگی جب وہ اپنے محرم کے حج کے اخراجات پر بھی قادر ہو یا محرم بلا خرچ اس کے ساتھ جانے کے لیے آمادہ ہو، بصورتِ دیگر اس پر عملاً حج کی ادائیگی لازم نہیں۔ یہاں تک کہ اگر پوری زندگی اس کو نہ تو محرم کے اخراجات کی استطاعت ملی اور نہ ہی کوئی با اعتماد محرم بلا خرچ ساتھ جانے پر راضی ہوا تو ایسی صورت میں اس عورت پر لازم ہے کہ وفات سے پہلے اپنی طرف سے حجِ بدل کروانے کی وصیت کر جائے اور اگر وصیت بھی نہ کرے تو گناہ گار ہوگی۔
ملک العلماء علامہ ابوبکر بن مسعود كاسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں:
و أما شرائط فرضيته فنوعان: نوع يعم الرجال و النساء... فمنها: البلوغ و منها العقل... و منها الإسلام... و منها الحرية... و منها صحة البدن... و منها ملك الزاد والراحلة في حق النائي عن مكة
ترجمہ: اور حج کے فرض ہونے کی شرائط دو قسم کی ہیں: ایک وہ جو مردوں اور عورتوں دونوں کو عام ہیں۔ پس ان شرائط میں سے بلوغ اور عقل ہے اور ان میں سے اسلام ہے اور ان میں سے آزاد ہونا ہے اور ان میں سے بدن کی صحت ہے اور ان میں سے زاد راہ اور سواری کا مالک ہونا ہے اس شخص کے حق میں جو مکہ سے دور ہو۔ (بدائع الصنائع، كتاب الحج، فصل شرائط فرضية الحج، جلد 1، صفحہ 120- 122 ملتقطاً، دار الكتب العلمية، بیروت)
فقیہِ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1423ھ / 2001ء) لکھتے ہیں: حج فرض ہونے کی آٹھ شرطیں ہیں: (۱) مسلمان ہونا، (۲) دار الحرب میں ہو تو یہ بھی ضروری ہے کہ جانتا ہو کہ اسلام کے فرائض میں حج ہے، (۳) بالغ ہونا، (۴) عاقل ہونا، (۵) آزاد ہونا، (۲) تندرست ہو کہ حج کو جا سکے، (۷) سفر خرچ کا مالک ہو اور سواری پر قادر ہو خواہ سواری اس کی ملک ہو یا اس کے پاس اتنا مال ہو کہ کرایہ پر لے سکے، (۸) وقت یعنی حج کے مہینوں میں تمام شرائط پائے جائیں۔ (فتاوی فقیہ ملت، جلد 1، صفحہ 357، شبیر برادرز، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/ 1948ء) لکھتے ہیں: سفر خرچ اور سواری پر قادر ہونے کے یہ معنی ہیں کہ یہ چیزیں اُس کی حاجت سے فاضل ہوں، یعنی مکان و لباس و خادم اور سواری کا جانور اور پیشہ کے اوزار اور خانہ داری کے سامان اور دَین سے اتنا زائد ہو کہ سواری پر مکہ معظمہ جائے اور وہاں سے سواری پر واپس آئے اور جانے سے واپسی تک عیال کا نفقہ اور مکان کی مرمت کے لیے کافی مال چھوڑ جائے، اور جانے آنے میں اپنے نفقہ اور گھر اہل و عیال کے نفقہ میں قدرِ متوسط کا اعتبار ہے، نہ کمی ہو نہ اسراف۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1039 - 1040، مکتبة المدینہ، کراچی)
صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، مسند ابی یعلی، کنز العمال وغیرہ میں ہے:
عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: لا يحل لامرأة تؤمن بالله و اليوم الآخر أن تسافر سفرا يكون ثلاثة أيام فصاعدا إلا ومعها أبوها أو ابنها أو زوجها أو أخوها أو ذو محرم منها
ترجمہ: حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:ایسی کوئی عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ اس کا باپ یا بیٹا یا شوہر یا بھائی یا ان میں سے کوئی محرم (ہمراہ) ہو۔ (صحیح مسلم، كتاب الحج، باب سفر المرأة مع محرم إلى حج وغيره، جلد 4، صفحہ 104، حدیث 1340، دار الطباعة العامرة تركيا)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: حج کی فرضیت میں عورت مرد کا ایک حکم ہے، جو راہ کی طاقت رکھتا ہو اس پر فرض ہے، مرد ہو یا عورت، جو ادا نہ کرے گا عذاب جہنم کا مستحق ہوگا۔ عورت میں اتنی بات زیادہ ہے کہ اُسے بغیر شوہر یا محرم کے ساتھ لیے سفر کو جانا حرام ہے۔ اس میں کچھ حج کی خصوصیت نہیں، کہیں ایک دن کے راستہ پر بے شوہر یا محرم جائے گی تو گناہ گار ہوگی۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 657، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 970ھ/1562ء)لکھتے ہیں:
و قيل شرط وجوب الأداء و ثمرة الاختلاف تظهر في وجوب الوصية و في وجوب نفقة المحرم و راحلته إذا أبى أن يحج
ترجمہ: اور کہا گیا ہے کہ (محرم کا ساتھ ہونا) ادائیگی کے وجوب کی شرط ہے، اور اس اختلاف کا نتیجہ وصیت کے وجوب اور محرم کے خرچ اور اس کی سواری کے وجوب میں ظاہر ہوتا ہے جب وہ حج کرنے سے انکار کر دے۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق، کتاب الحج، جلد 2، صفحہ 339، دار الكتاب الإسلامي)
علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ / 1836ء) السراج الوھاج کے حوالے سے لکھتے ہیں:
ان المحرم إذا قال لا أخرج إلا بالنفقة وجب عليها وإذا خرج من غير اشتراط ذلك لم يجب
ترجمہ: جب محرم یہ کہے کہ میں خرچ کے بغیر (حج کے لیے ساتھ) نہیں نکلوں گا تو عورت پر اس کا خرچ واجب ہوگا اور جب وہ اس کی شرط لگائے بغیر نکل آئے تو اس کا خرچ واجب نہیں۔ (منحة الخالق هامش البحر الرائق، کتاب الحج، جلد 2، صفحہ 340، دار الكتاب الإسلامي)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: عورت کو مکہ تک جانے میں تین دن یا زیادہ کا راستہ ہو تو اُس کے ہمراہ شوہر یا محرم ہونا شرط ہے، خواہ وہ عورت جوان ہو یا بوڑھیا اور تین دن سے کم کی راہ ہو تو بغیر محرم اور شوہر کے بھی جا سکتی ہے۔ محرم سے مراد وہ مرد ہے جس سے ہمیشہ کے لیے اُس عورت کا نکاح حرام ہے، خواہ نسب کی وجہ سے نکاح حرام ہو، جیسے باپ، بیٹا، بھائی وغیرہ یا دودھ کے رشتہ سے نکاح کی حرمت ہو، جیسے رضا عی بھائی، باپ، بیٹا وغیرہ یا سسرالی رشتہ سے حرمت آئی، جیسے خسر، شوہر کا بیٹا وغیرہ۔ شوہر یا محرم جس کے ساتھ سفر کر سکتی ہے اُس کا عاقل بالغ غیر فاسق ہونا شرط ہے، مجنون یا نا بالغ یا فاسق کے ساتھ نہیں۔... محرم کے ساتھ جائے تو اس کا نفقہ عورت کے ذمہ ہے، لہذا اب یہ شرط ہے کہ اپنے اور اُس کے دونوں کے نفقہ پر قادر ہو۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1044-1045، مکتبة المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1027
تاریخ اجراء: 01 رجب المرجب 1447ھ / 22 دسمبر 2025ء