logo logo
AI Search

خانہ کعبہ پر پہلی نظر سے کیا مراد ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کعبہ شریف پر پہلی نظر پڑتے وقت دعا قبول ہوتی ہے، اس سے ہر پہلی نظر مراد ہے یا کچھ اور؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جب کعبہ شریف پر پہلی نظر پڑتی ہے تو دعا قبول ہوتی ہے۔ کیا ہر دفعہ جب پہلی نظر پڑے تو دعا قبول ہوتی ہے؟ جیسے ہم 10 دن کے لیے عمرہ پر گئے ہیں اور دن میں کئی بار بار مطاف میں داخل ہوتے ہیں اور کعبہ پر نظر پڑتی ہے، تو کیا ہر بار دعا قبول ہوگی؟ دوسرا یہ کہ اگر پلک جھپک لی، اُس کے بعد بھی دعا قبول ہوگی؟

جواب

حدیث پاک میں مطلقاً دیدارِ کعبہ کے وقت قبولیتِ دعا کا ذکر ہے اور علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اس حدیث پاک میں یہ بھی احتمال ہے کہ زیارت کے لئے آنے والے کی پہلی نظر پر دعا قبول ہونا مراد ہو، کیونکہ اس وقت دل پر ہیبت و جلال کی کیفیت ہوتی ہے اور بندہ نہایت دل جمعی سے آدابِ دُعا بجا لاتے ہوئے دعا کرتا ہے لہٰذا قبولیت نصیب ہوتی ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ جب تک کعبہ مشرفہ کا دیدار کرتا رہے تب تک دعا قبول ہوتی ہے، پلک جھپکنے یا نہ جھپکنے سے اس کا تعلق نہیں۔

حدیث پاک میں ہے:

’’قال علیہ الصلوٰۃ والسلام:  تفتح أبواب السماء ويستجاب الدعاء فی أربعة مواطن: عند التقاء الصفوف، وعند نزول الغيث، وعند إقامة الصلاة، وعند رؤية الكعبة“

ترجمہ: چار مقامات میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دعا قبول ہوتی ہے: (اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے) صفوں کے ملتے وقت، بارش برستے وقت، نماز قائم ہوتے وقت اور دیدارِ کعبہ کے وقت۔ (المعجم الكبير للطبرانی، جلد 8، صفحہ  169، الحدیث: 7713، الموصل: مكتبة الزهراء)

علامہ عبد الرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں:

قوله: وعند رؤية الكعبة، يحتمل أن المراد أول ما يقع بصر القادم إليها عليها، ويحتمل أن المراد ما يشمل دوام مشاهدتها، فما دام انسان ينظر اليها فباب السماء مفتوح والدعاء مستجاب، والأول أقرب۔ اھ۔“

یعنی نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان: ’’دیدارِ کعبہ کے وقت‘‘،اس میں احتمال  ہے کہ زیارت کے لیے آنے والے کی پہلی نظر مراد ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ مراد یہ ہو کہ جب تک وہ کعبۃ اللہ شریف کی زیارت کرتا رہے، تو جب تک کوئی شخص کعبہ شریف کی زیارت کرتا رہے آسمان کے دروازے کھلے رہیں اور دعا قبول ہو، اور پہلا احتمال مراد ہونا زیادہ قریب ہے۔ (فیض القدیر شرح جامع الصغیر، جلد 3، صفحہ 258، الناشر: المکتبۃ التجاریۃ الکبری، مصر)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح میں فرماتے ہے: ”علماء فرماتے ہیں کہ مکہ معظمہ دن میں داخل ہونا کہ کعبہ معظمہ پر پہلی نظر ہیبت و جلال سے پڑے اور دعا خوب دل سے مانگی جائے، اول نظر پر دعا بہت قبول ہوتی ہے۔“ (مرآۃ المناجیح، جلد 4، صفحہ 151، مکتبہ اسلامیہ، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی

فتوی نمبر: Web-2321

تاریخ اجراء: 21ذو الحجۃ الحرام1446ھ/18جون2025ء