logo logo
AI Search

بچپن میں کیا گیا حج فرض حج کے لیے کافی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نابالغی میں حج کیا تھا تو کیا بالغ ہونے کے بعد دوبارہ حج کرنا ہوگا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنے والدِ محترم کے ساتھ بچپن میں حج کیا تھا، اُس وقت میری عمر تقریباً آٹھ (8) سال کے قریب تھی۔ اُس زمانے میں میں نابالغ تھا۔ اب میری عمر پچیس (25) سال ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں صاحبِ استطاعت ہوں اور مجھ میں حج فرض ہونے کی تمام شرائط پوری ہیں، اب میرا سوال یہ ہے کہ میں نے بچپن (نابالغی) میں والد صاحب کے ساتھ جو حج کیا تھا، کیا وہی فرض حج کے طور پر کافی ہوگا، یا مجھ پر دوبارہ حج فرض ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں آپ پر دوبارہ حج کرنا، فرض ہے، نابالغی کی حالت میں کیا گیا حج، فرض حج کے لیے کافی نہیں ہو گا، کیونکہ نابالغی کی حالت میں کیا جانے والا حج نفلی ہوتا ہے اور بالغ ہونے کے بعد حج کی شرائط پائی جانے پر دوبارہ حج کرنا فرض ہوتا ہے۔

بچپن میں کیے جانے والے حج کے متعلق سننِ کبریٰ میں ہے:

أيما صبي حج ثم بلغ الحنث فعليه أن يحج حجة أخرى

ترجمہ: بچہ جب نابالغی میں حج کرے، پھر بلوغت کی عمر کو پہنچ جائے (اور حج کی تمام شرائط پائی جائیں)، تو اُس پر فرض ہے کہ وہ ایک اور حج کرے۔ (السنن الکبریٰ للبیھقی، جلد 4، صفحہ 533، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

قبل بلوغت کیا جانے والا حج نفلی ہوگا، جیساکہ البحر العمیق میں ہے:

لو حج ثم بلغ فعلیہ حجۃ الاسلام و ما فعلہ قبل البلوغ یکون تطوعا

ترجمہ: اگر نابالغ نے حج کیا، پھر وہ بالغ ہو گیا، (تو حج کی تمام شرائط پائی جانے کی صورت میں) اُس پر حجۃ الاسلام یعنی فرض حج دوبارہ لازم ہو گا اور جو وہ نابالغی کی عمر میں حج کر چکا، وہ نفل شمار ہوگا۔ (البحر العمیق، جلد 1، صفحہ 362، مطبوعہ مؤسسۃ الریَّان، بیروت)

بالغ ہونے سے پہلے جو حج کیا، وہ فرض شمار نہ ہوگا، اس کی وجہ کے متعلق بدائع الصنائع میں ہے:

و منها البلوغ، ومنها العقل فلا حج على الصبي، و المجنون، لأنه لا خطاب عليهما فلا يلزمهما الحج حتى لو حجا، ثم بلغ الصبي، و أفاق المجنون فعليهما حجة الاسلام، و ما فعله الصبي قبل البلوغ يكون تطوعا

ترجمہ: حج کی شرائط میں سے عاقل اور بالغ ہونا بھی ہے۔ لہذا بچے اور مجنون پر حج واجب نہیں، کیونکہ شریعت کا خطاب ان دونوں کی طرف متوجہ نہیں، تو ان دونوں پر حج بھی لازم نہیں ہوگا، ہاں! اگر ان دونوں نے حج کیا اور پھر بچہ بالغ ہوگیا اور مجنون کو افاقہ ہوگیا تو ( حج کی شرائط پائی جانے کی صورت میں) ان دونوں پر فرض حج کرنا لازم ہوگا اور جو بچے نے بالغ ہونے سے پہلے حج کیا تھا، وہ نفل شمار ہوگا۔ (بدائع الصنائع، جلد 3، صفحہ 44، مطبوعہ کوئٹہ)

نابالغی کی حالت میں کیا گیا حج، فرض حج کے لیے کافی نہیں ہوگا، جیساکہ فتاوی رضویہ میں ہے: بچّے پر (حج) فرض نہیں، کرے گا، تو نَفْل ہوگا اور ثواب اُسی کے لئے ہے، باپ وغیرہ مُرَبّی تعلیم و تربیَّت کا اَجر پائیں گے۔ پھر بعدِ بلوغ شرطیں جمع ہوں گی، اِس پر حج فرض ہوجائے گا، بچپن کا حج کِفایت نہ کرے گا۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 775، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9657
تاریخ اجراء: 12 جمادی الثانی 1447ھ / 04 دسمبر 2025ء