
دار الافتاء اھلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے طواف زیارہ کے بعد نفل کی نیت سے سواری پر طواف کیا، اور اس کے بعد کوئی طواف نہیں کیا، اب اس نفل طواف کو طواف وداع کا بدل شمار کیا جاتا ہے جو کہ واجب ہے، تو کیا ایسی صورت میں سواری پر طواف کرنے کا دم لازم آئے گا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اصول یہ ہے کہ جو شخص کسی معین طواف کے وقت میں طواف کرے، تو چاہے اس نے معین طواف کی نیت کی ہو، یا مطلق طواف کی نیت کی ہو یا کسی دوسری نیت سے طواف کیا ہو، بہرصورت وہی طواف واقع ہوگا جس کا وہ خاص وقت شریعت کی طرف سے مقرر ہے۔ چونکہ طواف وَداع کا وقت طواف الزیارۃ کے بعد سے شروع ہو جاتا ہے اور یہ شریعت کی طرف سے مقرر کردہ ہے، اور طواف وَداع میں خاص وَداع کی نیت سے بھی طواف شرط نہیں، مطلق طواف یا کسی دوسرے طواف کی نیت سے بھی طوافِ وداع ادا ہو جاتا ہے، لہذا طواف الزیارۃ کے بعد جو طواف جس نیت سے بھی کیا جائے گا، اس سے بہرحال طواف وَداع ہی ادا ہوگا۔
لہذا صورت مسئولہ میں طواف الزیارۃ کے بعدنفل طواف کی نیت سے کیا جانے والا طواف بھی بعینہ طواف وَداع ہی ہوگا جو کہ آفاقی (میقات کے باہر سے آنے والے) حاجی پر واجب ہوتاہے، لہذا اس طواف کو سواری پر کرنے کی صورت میں وہی حکم لازم ہوگا جو دیگر فرض و واجب طواف کے بارے میں ہوتا ہے یعنی اگر عذر شرعی کی وجہ سے یہ طواف وَداع سواری پر کیا تو کچھ لازم نہیں، اور اگر بلا عذر شرعی کے سواری پر طواف کیا، تو جب تک مکہ مکرمہ میں موجود ہو،تواِس واجب طواف کا اعادہ یعنی دوبارہ سے پیدل چل کر کرنا لازم ہوگا، اعادہ کرلے گا تو دم ساقط ہوجائے گا،ورنہ اگر اعادہ کرے بغیر وطن آگیا، تو ایک دم لازم ہوگا جس کی ادائیگی حدودِ حرم میں کرنا ضروری ہوگا۔
کسی خاص طواف کے وقت میں جو طواف جس نیت سے بھی کیا جائے، تو اس سے وہی طواف ادا ہوتا ہے جس کا وقت مقرر ہے، چنانچہ لباب المناسک اور اس کی شرح میں ہے:
(و لو طاف طوافاً في وقته) أي زمانه الذي عین الشارع وقوعه فيه (وقع عنه) أي بعد أن ينوي أصل الطواف لكونه معياراً له كما في صوم اداء رمضان (نواہ بعينه أو لا) أي أو ما نواه بعينه بل أطلقه(أو نوى طوافاً آخر) و هذا كله مبني على أن التعيين ليس بشرط في نية الطواف۔۔۔ (و من فروعه لو قدم) أي من سفره(معتمراً و طاف) أی بأيّ نية كانت (وقع عن العمرة أو حاجاً و طاف قبل يوم النحر وقع للقدوم أو قارنا) أي قدم قارناً، و طاف طوافين من غير تعيين فيهما (وقع الأول للعمرة، و الثاني للقدوم و لو كان) أي طوافه( في يوم النحر) أي و نوى نفلاً أو وداعا، أو أطلقه (وقع للزيارة أو بعدما حل النفر) أی بعدما طاف للزيارة(فھو للمصدر و إن نواه للتطوع) و كذا إذا أطلقه (فالحاصل أن كل من عليه طواف فرض، أو واجب، أو سنة إذا طاف) أي مطلقاً، أو مقيداً (وقع عما يستحقه الوقت) أي من الترتيب المعتبر الشرعي (دون غيره)
ترجمہ: اور اگر کسی نے کسی طواف کو اس کے وقت میں کیایعنی اس وقت میں جس کو شریعت نے اس طواف کے لیے مقرر کیا ہےتو وہی طواف ادا ہوگا یعنی جبکہ اس نے اصلِ طواف کی نیت کی ہو،کیونکہ یہی (وقت) اس کے لیے معیار ہے، جیسے رمضان کے فرض روزے میں ہوتا ہے یعنی خواہ اس نے اسی(مقرر شدہ ) طواف کی نیت کی ہو یا نہیں،یعنی یا اس نے اس خاص طواف کی نیت نہ کی ہو بلکہ مطلق طواف کی نیت کی ہویا اس نے کسی اور طواف کی نیت کی ہو اور یہ سب اس بنیاد پر ہے کہ طواف کی نیت میں(طواف کی) تعیین شرط نہیں ہے۔ اور اس کے جزئیات میں سے ہے کہ اگر کوئی شخص عمرہ کرنے کی نیت سے آیا اور طواف کیا یعنی کسی بھی نیت سے، تو وہ عمرے کا طواف ہو گا۔ یا (حج افراد کرنے والا) حاجی آیا اور یومِ نحر(دسویں ذوالحجہ) سے پہلے طواف کیا، تو وہ طواف قدوم ہوگا۔ یا قارن آیا اور اس نے دو طواف کسی تعیین کے بغیر ادا کئے تو پہلا طواف عمرے کا ہوگا اور دوسرا طواف قدوم ہوگا، اگرچہ اس کا طواف یوم النحر کے دن ہی ہویعنی اگر اس نے نفل، یا طوافِ وداع، یا مطلق طواف کی نیت کی ہو (بہرحال) طواف زیارت واقع ہوگا، یا رُخصت کے جائز ہونے کے بعد یعنی طوافِ زیارت کے بعد کوئی طواف کیا، تو وہ طوافِ صدر(وداع) کرنے والا ہوگا، چاہے اس نے نفل طواف کی نیت کی ہواور ایسا ہی حکم ہوگا اگر اس نے نیت کو مطلق رکھا ہو۔ لہذا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص پرکوئی فرض، واجب یا سنت طواف کرنا ہو، تو جب وہ طواف کرے یعنی مطلق یا کسی خاص نیت کے ساتھ، تو اس سے وہی طواف ادا ہوگا جس کا شرعی ترتیب کے مطابق وقت حقدار ہے، کوئی دوسرا طواف نہ ہوگا۔ (لباب المناسک مع شرحہ، باب انواع الاطوفۃ، صفحہ 161، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
طوافِ وَداع کا وقت، طواف الزیارۃ کے بعد سے شروع ہو جاتا ہے، چنانچہ لباب المناسک اور اس کی شرح ہی میں ہے:
(و أما وقتہ فأولہ بعد طواف الزیارۃ، فلو طاف بعد الزیارۃ طوافاً) أی أيّ طواف کان (یکون عن الصدر) أی یقع عنہ سواء نواہ أم لا
ترجمہ:اور بہرحال طواف وداع کا وقت، تو وہ طواف زیارہ کے بعد سے شروع ہوتا ہے، لہذا اگر طواف الزیارۃ کے بعد کوئی بھی طواف کیا، تو وہ طواف وادع واقع ہوگا، چاہے اس کی نیت کی ہو یا نہیں۔ (لباب المناسک مع شرحہ، باب طواف الصدر، صفحہ 279، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
عذر کی وجہ سے سواری پر طواف کیا تو کچھ نہیں،جبکہ بلا عذر سواری پر طواف کیا، تو مکہ مکرمہ میں ہوتے ہوئے اعادہ لازم ہے،اگروطن لوٹ گیا تو دم لازم ہوگا،چنانچہ مبسوط سرخسی میں ہے:
إن طاف راكبا أو محمولا فإن كان لعذر من مرض أو كبر لم يلزمه شيء وإن كان لغير عذر أعاده ما دام بمكة فإن رجع إلى أهله فعليه الدم عندنا
ترجمہ: اگر کسی نے عذرِ شرعی یعنی بیماری یا بڑھاپے کے سبب سواری یا کسی کے کندھوں پر بیٹھ کر طواف کیا، تو اُس پر کچھ لازم نہیں ہوا۔اور اگر بغیر عذر ہوتو جب تک مکہ مکرمہ میں ہو، اس طواف کا (پیدل چل کر) اعادہ کرے گا، اور اگر اپنے وطن لوٹ جائے تو ہمارے نزدیک اس پر دم لازم ہوگا۔ (مبسوط سرخسی، جلد 4، صفحہ 45،44، دار المعرفہ، بیروت)
لباب المناسک اور اس کی شرح میں ہے:
من الواجبات(المشی فیہ للقادر فلو طاف راکبا أو محمولا أو زحفا بلا عذر فعلیہ الاعادۃ) أی ما دام بمکۃ(أو الدم) أی لترکہ الواجب (و ان کا ن بعذر لا شئ علیہ)
ترجمہ: طواف کے واجبات میں سے پیدل چلنے پر قادر شخص کیلئے چل کر طواف کرنا ہے، لہذا اگر بغیر عذر کے سوار ہو کر، یا کسی کے کندھے، گود میں بیٹھ کر، یا گھسٹ کر طواف کیا تو اس پر اعادہ لازم ہے یعنی جب تک مکہ مکرمہ میں ہو، یا (وطن لوٹ آنے کی صورت میں)واجب کے ترک کی وجہ سے دم لازم ہے،اور اگر عذر کی وجہ سے ہو تو کچھ لازم نہیں۔ (لباب المناسک مع شرحہ، فصل فی واجبات الطواف، صفحہ 168، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-780
تاریخ اجراء: 16 ذی الحجۃ الحرام 1446ھ / 13 جون 2025ء