دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا زندہ شخص کے لیے عمرہ کر سکتے ہیں ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
دوسرے کی طرف سے عمرہ کرنا، درحقیقت اُسے عمرہ کا ثواب پہنچانا ہے۔ نیک اعمال کا ثواب جس طرح مُردوں کو بخشا جا سکتا ہے، اسی طرح زندوں کو بھی ثواب بخشا جا سکتا ہے۔ ثواب پہنچانے کے لیے مُردوں کی تخصیص نہیں۔ لہذا جس طرح فوت شدہ شخص کو ثواب پہنچانے کی نیت سے اس کی طرف سے عمرہ کیا جا سکتا ہے، اسی طرح زندہ شخص کی طرف سے بھی عمرہ کیا جا سکتا ہے۔
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے مبارک فعل سے ثابت ہوتا ہے کہ عمل خیر کا ثواب زندوں اور مُردوں سب کو پہنچایا جاسکتا ہے۔ ایک حدیث مبارکہ ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام امت محمدیہ کی طرف سے قربانی کرنا ثابت ہے۔ اور امت محمدیہ زندوں اور مردوں سب کو شامل ہے۔ چنانچہ حدیث پاک ملاحظہ ہو۔
مسلم شریف کی حدیث مبارکہ ہے:
”عن عائشة: « أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم أمر بكبش أقرن، يطأ في سواد، ويبرك في سواد، وينظر في سواد، فأتي به ليضحي به، فقال لها: يا عائشة، هلمي المدية. ثم قال: اشحذيها بحجر، ففعلت ثم أخذها وأخذ الكبش فأضجعه ثم ذبحه ثم قال: باسم اللہ، اللهم تقبل من محمد، وآل محمد، ومن أمة محمد. ثم ضحى به“
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے مینڈھے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلے، سیاہی میں بیٹھے، سیاہی میں دیکھے، تو وہ آپ کی خدمت میں حاضر کیا گیا تاکہ اس کی قربانی کریں۔ تو آپ نے حضرت عائشہ سے فرمایا: اے عائشہ چھری لاؤ، پھر فرمایا: اسے پتھر پر تیز کرلو، (آپ فرماتی ہیں کہ)میں نے کرلیا پھر آپ نے چھری پکڑی اور مینڈھا پکڑ کر لٹایا، اسے ذبح کا ارادہ کیا تو یہ دعا کی: اللہ کے نام کے ساتھ، الٰہی! اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم، آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قبول فرما۔ پھر اس کی قربانی کی۔ (صحیح مسلم، جلد3، صفحہ 1557، حدیث نمبر1967، دار احیاء التراث، بیروت)
اسی طرح ایک حدیث پاک میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حج کیلئے جانے والوں سے فرمایا: کہ تم میں سے کون مجھے اس چیز کی ضمانت دیتا ہےکہ وہ مسجد عشار میں میرے لئے دو یا چار رکعت پڑھ کر اس کا ثواب مجھے بخشے گا۔ حدیث پاک ملاحظہ ہو۔
سنن ابی دا ؤد میں ہے:
’’إبراهيم بن صالح بن درهم، قال: سمعت أبي يقول: انطلقنا حاجين فإذا رجل، فقال لنا: إلى جنبكم قرية يقال لها: الأبلة؟ قلنا: نعم، قال: من يضمن لي منكم أن يصلي في مسجد العشار ركعتين أو أربعا، ويقول: هذه لأبي هريرة؟ سمعت خليلي رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن اللہ يبعث من مسجد العشار يوم القيامة شهداء، لا يقوم مع شهداء بدر غيرهم‘‘
ترجمہ: ابراہیم بن صالح بن درہم فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہم حج کے ارادے سے نکلے، تو ایک شخص ملا۔ اس نے ہم سے کہا: کیا تمہارے قریب ایک بستی ہے جسے ’’الابلہ‘‘ کہا جاتا ہے؟ ہم نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: تم میں سے کون اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ’’مسجد عشار‘‘ میں دو یا چار رکعت نماز پڑھے اور کہے: ’’یہ ابو ہریرہ کے لیے ہے‘‘؟ میں نے اپنے محبوب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مسجد عشار سے کچھ شہداء کو اٹھائے گا، جن کے ساتھ شہداء بدر کے سوا کوئی اور کھڑا نہ ہوگا۔ (سنن ابی داؤد، جلد6، صفحہ367، 366، رقم الحدیث: 4308،: دار الرسالة العالميۃ)
بحرا لرائق میں ہے:
’’من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة كذا في البدائع وبهذا علم أنه لا فرق بين أن يكون المجعول له ميتا أو حيا ‘‘
ترجمہ: جس نے روزہ رکھا یا نماز پڑھی یا صدقہ دیا اور اس کا ثواب مردوں اور زندوں میں سے کسی کیلئے کردیا، تو یہ اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک جائز ہے اور اس کا ثواب ان تک پہنچ جائے گا۔ اسی طرح بدائع میں ہے، اور اس سے معلوم ہوا کہ جس کو ایصال ثواب کیا جائے، وہ مردہ ہو یا زندہ ہو، اس میں کوئی فرق نہیں۔ (بحر الرائق، جلد3، صفحہ63، دار الكتاب الإسلامي، بیروت)
نیک کام کے ایصال ثواب میں تمام مؤمنین و مؤمنات کی نیت کرلینا افضل ہے اور ظاہر ہے کہ اس میں زندہ بھی ہوں گے اور فوت شدہ بھی، چنانچہ رد المحتار میں ہے:
’’فی زکاۃ التاترخانیۃ عن المحیط: الأفضل لمن یتصدق نفلا أن ینوی لجمیع المؤمنین والمؤمنات لأنھا تصل الیھم ولا ینقص من اجرہ شئ‘‘
ترجمہ: تاتارخانیہ کے کتاب الزکوۃ میں محیط کے حوالے سے ہے: کہ جو نفلی صدقہ کرے اس کیلئے افضل ہے کہ وہ تمام مؤمنین و مؤمنات کی نیت کرلے اس لئے کہ اس کا ثواب ان سب کو پہنچے گا اور اس کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد3، صفحہ 180، دارالمعرفۃ، بیروت)
فتاوی امجد یہ میں مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’ایصال ثواب مستحب ہے۔ اور جو کچھ نیک کام کیا ہو اور اس کا ثواب کسی کو پہنچاناچاہتا ہو تو یہ دعا کرے کہ الہی اسے قبول فرما اور اس کا ثواب فلاں فلاں کو پہنچا۔ بلکہ بہتر یہ ہے کہ جمیع مومنین و مومنات کو پہنچائے۔ امید کہ سب کو پورا پورا ثواب ملے اور اس کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو بلکہ سب کے مجموعے کے برابر ملے‘‘۔ (فتاوی امجد یہ، جلد1، صفحہ336، مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر:FAM-978
تاریخ اجراء: 20 جمادی الاولی1447ھ/12 نومبر 2025ء