حالت احرام میں تھوڑے حصے پر خوشبو لگ جائے تو حکم؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احرام کی حالت میں ہاتھ کے تھوڑے سے حصے پر خوشبو لگی تو کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر احرام کی حالت میں ہاتھ کی انگلی کے اوپر والے پَورے کے ایک چھوٹے سے حصے پر عطر لگ جائے اور خوشبو بھی بس اُسی جگہ سے آرہی ہو، پُورے ہاتھ یا دوسری انگلیوں سے نہیں آرہی تو کیا اُس پر دَم لازم ہوگا؟
جواب
یاد رکھیے کہ خوشبو لگنے کی صورت میں دَم اُس وقت واجب ہوتا ہے، جب خوشبو کثیر (یعنی زیادہ) ہو یا کسی بڑے عُضْو کو پورا خوشبو میں لتھیڑ دیا جائے، اگرچہ خوشبوکم ہی ہو۔ اوراگر خوشبو قلیل (کم) ہو اور کسی بڑے عُضْو کو مکمل خوشبو میں لتھیڑا نہ گیا ہو، تو مُحرِم پر صدقہ واجب ہوتا ہے۔
آپ کی بیان کردہ صورت میں خوشبو صرف انگلی کے پَورے کے ایک چھوٹے سے حصے پر لگی ہے، تو اِتنی مقدار پر کثیر خوشبو کا اطلاق نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں صدقہ واجب ہے۔
نوٹ: صدقہ سے مراد صدقہِ فطر (1920 گرام) کی مقدار گندم یا اُس کا آٹا یا اُس کی رقم ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو الفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1165
تاریخ اجراء: 18 ربیع الاول 1444ھ / 15 اکتوبر 2022ء