logo logo
AI Search

Government Hajj Scheme Me Name Na Aane Ki Wajah Se Hajj Late Karna Kaisa ?

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

گورنمنٹ حج اسکیم میں نام نہ آنے کی وجہ سے حج میں تاخیر کرنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے حج کے سلسلے میں گورنمنٹ فارم حاصل کیا اور مقررہ وقت پررقم بھی جمع کروادی، مگر اس کا نام نہیں نکلا، ابھی چونکہ پرائیویٹ کاروان کے ذریعے درخواستیں جمع ہورہی ہیں اور جانا، ممکن بھی ہے، تو کیا اس شخص پر لازم ہے کہ پرائیویٹ ذریعہ اختیار کرتے ہوئے حج پر جائے اور اگر نہ جائے اور آئندہ سال کوشش کر کے گورنمنٹ کے تحت سفر کرلے، تو کیا گنہگار ہوگا؟ کیونکہ گورنمنٹ اور پرائیویٹ کے ریٹ میں لاکھوں کا فرق آرہا ہے اور یہ خرچ کرنے کی بھی استطاعت موجود ہے، لیکن اگر کم پیسوں میں ہوجائے، تو فبہا اور اگر تاخیر کے سبب گناہ کا معاملہ آئے گا، تو پرائیویٹ ہی انتظام کر لیں گے۔ اس بارے میں آپ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں اس شخص کے پاس جب اتنی استطاعت موجود ہے کہ اپنے گھر، اہل و عیال یعنی جن کا نفقہ اس کے ذمے لازم ہے، وہ نکالنے کے بعد اتنی رقم موجود ہے کہ پرائیویٹ ذریعہ اختیار کرتے ہوئے حج کے اخراجات کو کافی ہے، تو اس پر فرض ہے کہ اسی سال حج پر جائے اور آئندہ سال تک تاخیر نہ کرے کہ حج فرض ہونے کے بعد بلاوجہ شرعی تاخیر کرنا گناہ ہے اور حدیث پاک میں ایسے شخص کے بارے میں سخت وعید موجود ہے۔

چنانچہ امام ابو عیسی الترمذی رحمہ اللہ تعالی ایک حدیث پاک نقل فرماتے ہیں: من ملک زادا و راحلۃ تبلغہ الی بیت اللہ و لم یحج فلا علیہ ان یموت یھودیا او نصرانیا و ذلک ان اللہ یقول فی کتابہ ﴿وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً﴾ یعنی جو زاد راہ اور سواری کا مالک ہوا، جو اسے بیت اللہ تک پہنچا دے اور اس نے حج نہ کیا، تواس کی پرواہ نہیں، چاہے وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی اور یہ اس لیے کہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے: اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے، جو اس تک چل سکے۔ (جامع التر مذی، جلد 1، صفحہ 100، مطبوعہ ملتان)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حج فرض ہونے کی شرائط کو لکھتے ہوئے فرماتے ہیں: (ساتویں شرط) سفر خرچ کا مالک ہواور سواری پر قادر ہو، خواہ سواری اس کی مِلک ہو یا اس کے پاس اتنا مال ہو کہ کرایہ پر لے سکے۔ مزید لکھتے ہیں: سفر خرچ اور سواری پر قادر ہونے کے یہ معنی ہیں کہ یہ چیزیں اُس کی حاجت سے فاضل ہوں یعنی مکان و لباس و خادم اور سواری کا جانور اور پیشہ کے اوزار اور خانہ داری کے سامان اور دَین سے اتنا زائد ہو کہ سواری پر مکہ معظمہ جائے اور وہاں سے سواری پر واپس آئے اور جانے سے واپسی تک عیال کا نفقہ اور مکان کی مرمت کے لیے کافی مال چھوڑ جائے اور جانے آنے میں اپنے نفقہ اور گھر اہل و عیال کے نفقہ میں قدرِ متوسط کا اعتبار ہے۔ نہ کمی ہو نہ اِسراف۔ عیال سے مراد وہ لوگ ہیں، جن کا نفقہ اُس پر واجب ہے، یہ ضروری نہیں کہ آنے کے بعد بھی وہاں اور یہاں کے خرچ کے بعد کچھ باقی بچے۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1040، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اور حج فرض ہونے کے بعد تاخیر کرنے والے کے لیے حکم شریعت بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: حج پر جانے کے لیے قادر ہو، حج فوراً فرض ہوگیا یعنی اسی سال میں اور اب تاخیر گناہ ہے اور چند سالوں تک نہ کیا، تو فاسق ہے اور اس کی گواہی مردود، مگر جب کرے گا ادا ہی ہے، قضا نہیں۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1036، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-020
تاریخ اجراء: 03 شعبان المعظم 1435ھ / 02 جون 2014ء