logo logo
AI Search

حجِ بدل میں قربانی کس کے نام پر ہوگی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حج بدل میں قربانی کس کے نام پر کی جائے گی؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ حجِ بدل کرنے والا (جبکہ وہ کروانے والے کی اجازت سے حجِ تمتع کی صورت میں کر رہا ہو، تو وہ) حج کی قربانی اپنے نام پر کرے گا یا جس کے نام پر حج بدل کرنے گیا ہے، اس کے نام پر کرے گا؟ برائے مہربانی جواب ارشاد فرما دیں۔

جواب

جو شخص حجِ بدل کروانے والے کی اجازت سے تمتع کی صورت میں حج بدل کر رہا ہو، تو اس صورت میں وہ حجِ تمتع کی قربانی اپنے مال سے اپنے نام پر کرے گا، حج بدل کروانے والے کی طرف سے نہیں کرے گا، کیونکہ حجِ تمتع اور حجِ قران میں حاجی پر شکرانے کے طور پر جو قربانی لازم ہوتی ہے، تو وہ حج و عمرہ دونوں کو جمع کرنے کی وجہ سے لازم ہوتی ہے اور حج و عمرہ کو حقیقی لحاظ سے جمع کرنے والا یہی حاجی ہوتا ہے، تو حج کا وقوع اگرچہ شرعی لحاظ سے حج بدل کروانے والے کی طرف سے ہوتا ہے، مگر قربانی کا وجوب حقیقی لحاظ کے اعتبار سے ہے، اس لیے یہ حاجی پر اسی کے مال سے لازم ہوتی ہے۔ اس میں اصول یہ ہے کہ دمِ احصار کےعلاوہ جو قربانی بھی حج کی وجہ سے لازم ہوگی، وہ حج بدل کروانے والے پر نہیں ہوگی، بلکہ حج بدل کرنے والے پر ہوگی۔

چنانچہ اس کے متعلق فقیہ النفس امام قاضی خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں:

الحاج عن الميت إذا كان مأمورا بالقران كان دم القران على الحاج لا فی مال الميت و الأصل فيه أن كل دم يجب على المأمور بالحج يكون على الحاج لا فی مال الميت إلا دم الإحصار فی قول أبی حنيفة رحمه اللہ تعالى

ترجمہ: میت کی طرف سے حج کرنے والا اگر قِران کر رہا ہو، تو قِران کی قربانی حاجی پر ہوگی ، نہ کہ میت کے مال سے۔ اس میں اصل یہ ہے کہ ہر وہ دَم جو مامور پر حج کی وجہ سے واجب ہو، تو وہ حاجی پر ہوتا ہے، نہ کہ میت کے مال سے، سوائے محصر پر آنے والے دم کے، یہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا قول ہے۔ (فتاوى قاضی خان، جلد 01، صفحہ 153، مطبوعہ دار الکتب االعلمیہ، بیروت)

الدر المختار میں ہے:

(و دم القران) و التمتع (و الجناية على الحاج) إن أذن له الآمر بالقران و التمتع

ترجمہ: قِران و تمتع اور جنایت کا دم (قربانی) حاجی پر ہوگا، جبکہ قِران و تمتع حجِ بدل کروانے والے کی اجازت سے ہو۔

اس کے تحت رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

(قوله على الحاج) أی المأمور. أما الأول فلأنه وجب شكرا على الجمع بين النسكين و حقيقة الفعل منه و إن كان الحج يقع عن الآمر لأنه وقوع شرعی لا حقيقی۔۔ أفاده فی البحر

ترجمہ: ماتن کا قول: حاجی پر ہوگا یعنی جسے حجِ بدل کا حکم دیا گیا ہے، اس پر ہوگا، پہلا تو اس وجہ سے کیونکہ یہ دم دو عبادتوں یعنی حج و عمرہ کو جمع کرنے کے شکرانے کے طور پر واجب ہوا ہے اور حقیقی لحاظ سے یہ اسی نے ادا کیے، اگرچہ حج آمر یعنی حج بدل کروانے والے کی طرف سے ہو رہا ہے، کیونکہ وہ وقوعِ شرعی ہے، نہ کہ حقیقی۔ اسے بحر میں بیان کیا گیا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 02، صفحہ 611، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

جد الممتار میں ملا علی قاری علیہ الرحمۃ کے حوالے سے ہے:

و قد أقره عليه القارئ ثمه قائلا: (أی: وأذنا له فی التمتع جاز، لكن دم المتعة عليه فی ماله) اه

ترجمہ: اور ملا علی قاری علیہ الرحمۃ نے وہاں یہ کہتے ہوئے اس (تمتع) کو برقرار رکھا ہے کہ: (اور ان دونوں نے اسے تمتع کی اجازت دیدی ہو، تو یہ جائز ہے، لیکن تمتع کی قربانی اس (حاجی) پر اسی کے مال سے ہوگی۔ (جد الممتار، جلد 05، صفحہ 306، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بہار شریعت میں ہے: مرض یا دشمن کی وجہ سے حج نہ کرسکا یا اور کسی طرح پر مُحصر ہوا، تو اس کی وجہ سے جو دَم لازم آیا، وہ اُس کے ذمہ ہے، جس کی طرف سے گیااور باقی ہرقسم کے دَم اِس کے ذمہ ہیں۔ مثلاً: سلا ہوا کپڑا پہنا یا خوشبو لگائی یا بغیر احرام میقات سے آگے بڑھا یا شکار کیا یا بھیجنے والے کی اجازت سے قِران و تمتع کیا۔ (بھار شریعت، جلد 01، صفحہ 1206، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی ابوالحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-1787
تاریخ اجراء: 08 ذی الحجۃ الحرام 1445ھ / 15 جون 2024ء