احرام کی حالت میں چپل پہننے اور ایڑی چھپانے کا حکم؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احرام کی حالت میں پٹی والی چپل پہننے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا مرد احرام میں ایسی چپل پہن سکتے ہیں جس میں قدم کا درمیانی حصہ تو کھلا ہوتا ہے لیکن ایک پٹی وسط قدم کی ابھری ہڈی اور ٹخنے کے درمیانی حصے سے اس طرح گزرتی ہے کہ سائیڈوں سے ٹخنوں کا کچھ حصہ چھپ جاتا ہے اور سامنے کی طرف وسط قدم کی ابھری ہڈی سے اوپر پاؤں اور پنڈلی کا جوڑ یا اس کا کچھ حصہ چھپتا ہے؟
جواب
سوال میں مذکور جوتا مرد کے لئے احرام کی حالت میں پہننا شرعا جائز نہیں، کیونکہ احرام کی حالت میں جوتے کے ذریعے قدم کے درمیان والی ابھری ہڈی کو اور اس سے اوپر والےسارے حصے کو کسی بھی جانب سے چھپانے کی اجازت نہیں ہے، ہاں اس ابھری ہڈی سے نیچے قدم کا جو حصہ چاروں طرف ہے، اسے چھپانے کی اجازت ہے۔
تفصیل کچھ یوں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے احرام کی حالت میں موزے پہننے کی اس صورت میں اجازت دی جب ان کو اوپرسے اتنا کاٹ دیا جائے کہ وہ کَعبَین (ابھری ہڈیوں) سے نیچے تک ہو جائیں یعنی کَعبَین اور ان کے اوپر والا حصہ ظاہر رہے۔
چنانچہ حدیث پاک کے الفاظ یہ ہیں: ”فمن لم يجد النعلين فليلبس الخفين، و ليقطعهما حتى يكونا أسفل من الكعبين“ ترجمہ: پس جس کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ موزے پہنے اور انہیں کاٹ لے یہاں تک کہ وہ ابھری ہڈیوں سے نیچے ہو جائیں۔(صحیح بخاری، جلد1، صفحہ82، دار طوق النجاۃ)
اس حدیث پاک میں ”کعب“ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور کعب کا اطلاق دو جگہوں پر ہوتا ہے: (1) ایک تو وہ ہڈی جو پنڈلی اور قدم کے جوڑ پر دائیں بائیں ابھری ہوتی ہے، جسے اردو میں ٹخنہ کہتے ہیں۔ (2) اور دوسری وہ اونچی و ابھری ہڈی جو قدم کے درمیان میں اوپر کی جانب ہوتی ہے۔
حدیث پاک میں ان دونوں میں سے کسی ایک کو متعین نہیں کیا گیا اور اس لفظ کے تحت سابقہ دونوں معنی درست ہو سکتے ہیں، لیکن چونکہ دوسرے معنی یعنی قدم کے درمیان والی ہڈی مراد لینے میں زیادہ احتیاط ہے کہ اس کو مراد لینے کی صورت میں پاؤں کا زیادہ حصہ کھلا رہے گا۔ اس لئے ہمارے فقہائے کرام نے احرام کے باب میں کعب سے مراد قدم کے وسط والی ابھری ہڈی ہی مراد لی اور یہ فرمایا کہ اس ہڈی کو اور اس کے اوپر جتنا حصہ ہے، اسے چھپانے کی اجازت نہیں، ہاں اس ہڈی سے نیچے والے حصے کو چھپا سکتے ہیں چاہے وہ قدم کے دائیں بائیں کا حصہ ہویا سامنے کا یا پیچھے کا۔
الجوہرۃ النیرۃ میں ہے: ”و الكعب هنا هو الناتئ في وسط القدم عند معقد الشراك“ یعنی کعب سے مراد یہاں وہ ہڈی ہے جو قدم کے درمیان میں تسمہ باندھنے کی جگہ پر ابھری ہوتی ہے۔ (الجوھرۃ النیرۃ، جلد 1، صفحہ 152، المطبعۃ الخیریۃ)
فتاوی عالمگیری میں ہے: ”و الكعب هنا المفصل الذي في وسط القدم عند معقد الشراك كذا في التبيين“ ترجمہ: کعب یہاں پر وہ جوڑ ہے جو قدم کے درمیان میں تسمہ باندھنے کی جگہ کے قریب ہوتا ہے، ایسا ہی تبیین میں ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 224، دار الفکر، بیروت)
درمختار میں ہے: ”(و خفين إلا أن لا يجد نعلين فيقطعهما أسفل من الكعبين) عند معقد الشراك“ یعنی: احرام کے بعد مُحرم موزے پہننے سے بچے اِلّا یہ کہ اگر اس کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ موزوں کو کاٹ لے یہاں تک کہ وہ ان ابھری ہڈیوں سے نیچے ہو جائیں جو تسمہ باندھنے کی جگہ کے قریب ہوتی ہیں۔
”أسفل من الكعبين“ کے تحت علامہ شامی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: ”الذي في الحديث و ليقطعهما حتى يكونا أسفل من الكعبين، و هو أفصح مما هنا ابن كمال و المراد قطعهما بحيث يصير الكعبان و ما فوقهما من الساق مكشوفا لا قطع موضع الكعبين فقط كما لا يخفى“ ترجمہ: حدیث میں جو بات ارشاد ہوئی وہ یوں ہے: ”تو وہ دونوں موزوں کو کاٹ لے یہاں تک کہ وہ ابھری ہڈیوں سے نیچے ہوجائیں۔“ اور یہ الفاظ زیادہ فصیح ہیں بنسبت اس کے جو یہاں استعمال ہوئے، ابن کمال۔ اور مراد یہ ہے کہ موزوں کو یوں کاٹ لیا جائے کہ دونوں ابھری ہڈیاں اور ان سے اوپر جو پنڈلی کا حصہ ہے وہ کھلا رہے نہ یہ کہ فقط ابھری ہڈیوں کی جگہ کو کاٹ لیا جائے جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔
اور ”عند معقد الشراك“ کے تحت لکھتے ہیں: ”و هو المفصل الذي في وسط القدم كذا روى هشام عن محمد، بخلافه في الوضوء فإنه العظم الناتئ أي المرتفع و لم يعين في الحديث أحدهما لكن لما كان الكعب يطلق عليهما حمل على الأول احتياطا لأن الأحوط فيما كان أكثر كشفا بحر“ ترجمہ: یہ وہ جوڑ ہے جو قدم کے درمیان میں ہوتا ہے جیسا کہ امام ہشام نے امام محمد سے روایت کیا ہے بخلاف وضو کے، کہ وضو میں اس سے مراد وہ ہڈی ہوتی ہے جو ابھری یعنی بلند ہوتی ہے اور حدیث میں ان دونوں میں سے کسی ایک کو معین نہیں کیا گیا لیکن جب کعب کا اطلاق دونوں ہڈیوں پر ہوتا ہے تو (بابِ احرام میں) احتیاطا اس سے پہلی والی ہڈی (یعنی جو وسط قدم میں ہوتی ہے وہ) مراد لی جائے گی کیونکہ زیادہ احتیاط اس میں ہے جس میں پاؤں کا زیادہ حصہ کھلا رہے، بحر۔ (درمختار مع رد المحتار، کتاب الحج، جلد 3، صفحہ 572، مطبوعہ کوئٹہ)
علامہ شامی علیہ الرحمۃ نے ایک مقام پر یہ تحریر فرمایا: ظاہر یہ ہے کہ احرام میں ایڑیاں چھپانا بھی جائز نہیں اس پر امام اہلسنت سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ نےجد الممتار میں فرمایا: ”أقول: بل الظّاهر خلافه على ما اقتضاه ثنيا الحديث: (فليقطعهما حتّى يكونا أسفل من الكعبين) و قد فسّرا هاهنا بِمَعقِد الشِّراك في وسط الرِّجل، و هو مفصل الساق و القدم فإذا بقي مكشوفاً من كلّ جانبٍ جاز سَتر ما وقع تَحته من الصدر و العقب و الأطراف جميعاً“ ترجمہ: میں کہتا ہوں: بلکہ ظاہر اس کے برخلاف ہے (یعنی ایڑی چھپانا ممنوع نہیں ہے) جیسا کہ اس حدیث کا استثناء تقاضا کرتا ہے کہ ان موزوں کو کاٹ دے یہاں تک کہ وہ ابھری ہڈیوں سے نیچے ہو جائیں۔ اور ان ابھری ہڈیوں کی تفسیر یہاں پر یہ کی گئی ہے کہ جو قدم کے درمیان میں تسمہ باندھنے کی جگہ ہوتی ہے اور یہ پنڈلی و قدم کا جوڑ ہے پس جب یہ ہر جانب سے کھلا رہے تو جو اس کے نچلا حصہ ہے، اس کا چھپانا، جائز ہے چاہے وہ قدم کے سامنے کا حصہ ہو یا ایڑی ہو یا بقیہ تمام اطراف ہو۔ (جد الممتار، جلد 4، صفحہ 313، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
مناسک ملا علی قاری پر علامہ حباب اپنے حواشی میں لکھتے ہیں: ”قال الشیخ ابو الطیب فی حاشتیہ علی الدر المختار: اقول یستفاد منہ ان الخف یقطع من الکعب بحیث یبقی ما فوقہ الی الساق مکشوفا لا انہ یقطع منہ موضع الکعب فقط اھ“ ترجمہ: شیخ ابو الطیب اپنے حاشیہ در مختار میں فرماتے ہیں: میں کہتا ہوں: اس سے مستفاد ہے کہ موزہ کعب (ابھری ہڈی) سے یوں کاٹا جائے کہ ہڈی سے اوپر پنڈلی تک کا حصہ کھلا رہے نہ یہ کہ فقط ابھری ہڈی کی جگہ کاٹ لی جائے۔ (حاشیہ حباب علی شرح المنسک المتوسط، صفحہ 58، مخطوط)
ان عبارات سے معلوم ہوا کہ قدم کے درمیان میں جو ابھری ہڈی ہوتی ہے، اس سے نیچے والے حصے کو احرام میں چھپانا، جائز ہے، لیکن اس سے اوپر قدم کا جو حصہ ہے اس کو چھپانا، جائز نہیں اور سوال میں جس جوتے کا تذکرہ ہے اس میں اگرچہ قدم کا درمیانی حصہ کھلا ہے، لیکن اس درمیانی حصے سے اوپر کا کچھ حصہ اور ٹخنوں کا کچھ حصہ چھپ رہا ہے، لہٰذا حدیث و فقہ کے مطابق ان جوتوں کو احرام کی حالت میں پہننا جائز نہیں، لہٰذا مرد کو حالتِ احرام میں ایسا جوتا پہننے سے بچنا ہوگا۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد ساجد عطاری مدنی
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: Mad-2107
تاریخ اجراء: 10 ذو القعدۃ الحرام 1439ھ / 24 جولائی 2018ء