حالت احرام میں محرم کا دوسرے محرم کے بال کاٹنا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احرام سے نکلنے کیلئے شوہر کا اپنی بیوی کے بال کاٹنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا عمرہ کے بعد احرام سے نکلنے کے لئے شوہر اپنی بیوی کے بال کاٹ سکتا ہے؟
جواب
اگر میاں بیوی دونوں احرام باندھے ہوئے تھے تو اگر دونوں کے احرام کھلنے کا وقت ہے یا شوہر پہلے سے ہی احرام سے باہر ہے اور بیوی کے احرام کھلنے کا وقت آگیا ہے تو شوہر اپنی بیوی کے بال کاٹ سکتا ہے۔ اور اگر بیوی کے تو احرام کھلنے کا وقت آگیا لیکن شوہر کے احرام کھلنے کا وقت نہیں آیا تو ایسی صورت میں شوہر اس کے بال نہیں کاٹ سکتا۔
چنانچہ لباب و شرح لباب میں ہے
(و إذا حلق) أی المحرم (رأسہ) أی رأس نفسہ (أو رأس غیرہ)۔۔۔ (عند جواز التحلّل) أی الخروج من الإحرام بأداء أفعال النسک۔۔۔ لم یلزمھماشیء
ترجمہ: جب محرم اپنا یا دوسرے کا سر مونڈے جبکہ حج یا عمرہ کی ادائیگی مکمل ہوجانے کے بعد ان کے احرام سے نکلنے کا وقت آچکا تھا، تو ان دونوں پرکچھ لازم نہیں ہوگا۔ (لباب و شرح لباب، فصل فی الحلق و التقصیر، ص 323، مطبوعہ: السعودیۃ العربیۃ)
فتاوی ہندیہ میں ہے
حلق رأس محرم أو حلال و هو محرم عليه صدقة سواء كان بأمره أو بغير أمره
ترجمہ: محرم یا غیر محرم کے سر کا حلق کیا اور حلق کرنے و الااحرام کی حالت میں ہے تواس پر صدقہ ہے برابرہے کہ اس نے دوسرے کے حکم سے ایسا کیا ہے یا اس کے حکم کے بغیر ایسا کیا ہے۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب المناسک، الباب الثامن فی الجنایات، ج 01، ص 243، دار الفکر، بیروت)
محقق مسائل جدیدہ مفتی علی اصغر مدنی دامت برکاتھم العالیہ اپنی کتاب 27 واجبات حج میں فرماتے ہیں: کسی شخص کا احرام کھولنے کا وقت ہوگیا تو وہ اپنا حلق یا تقصیر خود کر سکتا ہے بلکہ کسی ایسے آدمی کا حلق یا تقصیر بھی کرسکتا ہے جس کا احرام ابھی نہ کھلا ہو لیکن احرام کھولنے کا وقت آگیا ہو مثلاً دو افراد عمرہ کر رہے تھے طواف و سعی سے فارغ ہو گئے اب صرف حلق یا تقصیر ہی کرنا ہے تو یہ دونوں ایک دوسرے کا حلق یا تقصیر کر سکتے ہیں۔ (27 واجبات حج، واجب نمبر 14، حلق و تقصیر کا بیان، صفحہ 120، مکتبۃ المدینہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-3308
تاریخ اجراء: 11 جمادی الاولیٰ 1446ھ / 14 نومبر 2024ء