خانہ کعبہ پر سب سے پہلے غلاف کعبہ کس سے چڑھایا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خانہ کعبہ کے غلاف کی تاریخ اور قیمتی غلاف چڑھانے کی تفصیل
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کعبۃ اللہ پر سب سے پہلے غلاف کس نے چڑھایا تھا۔ اور کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی ایسا کیا ہے۔ دوسرا یہ کہ آج کل غلاف کعبہ کو سونے اور چاندی کے تار لگائے جاتے ہیں، ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں۔ کچھ معترضین کا کہنا ہے کہ اس سے بہتر ہے کہ غریبوں کی مدد کی جائے۔ کیا ایسا کہنا درست ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا؟
جواب
آغاز اسلام سے پہلے بھی بیت اللہ شریف پر غلاف موجود تھا اور مختلف ادوار میں مختلف لوگوں نے بیت اللہ پر غلاف چڑھائے جن کا تذکرہ تاریخ اور شروح حدیث کی کتب میں موجود ہے۔
سب سے پہلے بیت اللہ شریف پر غلاف کس نے چڑھایا؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں:
(الف) ایک قول کے مطابق حضرت اسماعیل علیہ السلام نے سب سے پہلے چڑھایا۔ (ب) ایک قول کے مطابق اسد تبع الحمیری نے سب سے پہلے چڑھایا۔ (ج) اور ایک قول کے مطابق عدنان بن ادد نے چڑھایا۔ یا اس کے زمانہ میں چڑھایا گیا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بیت اللہ شریف پر غلاف چڑھایا اسی طرح آپ کے بعد حضرت ابوبکر، حضرت عمر و حضرت عثمان، حضرت امیر معاویہ، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھم نے اپنے ادوار میں غلا ف چڑھایا ان کے بعد مختلف اسلامی بادشاہوں نے اپنے ادوار میں غلاف چڑھایا اور یہ سنت اب تک چلی آرہی ہے۔
فتح الباری میں ہے: "روى عبد الرزاق عن بن جريج قال بلغنا أن تبعا أول من كسا الكعبة الوصائل فسترت بها قال و زعم بعض علمائنا أن أول من كسا الكعبة إسماعيل عليه السلام و حكى الزبير بن بكار عن بعض علمائهم أن عدنان أول من وضع أنصاب الحرم و أول من كسا الكعبة أو كسيت في زمنه" ترجمہ: عبد الرزاق نے ابن جریج سے روایت کیا انہوں نے فرمایا کہ ہمیں یہ بات پہنچی کہ تبع وہ شخص ہے کہ جس نے سب سے پہلے کعبہ کو یمنی چادر کا غلاف پہنایا اور کعبہ اس کے ساتھ چھپ گیا، فرمایا کہ ہمارے بعض علماء نے گمان کیا کہ سب سے پہلے جس نے کعبہ کو غلاف پہنایا وہ اسماعیل علیہ السلام ہیں، اور زبیر بن بکار نے بعض علمائے کرام سے حکایت کیا ہے کہ عدنان وہ شخص ہے کہ جس نے سب سے پہلے حرم کے پتھروں کو رکھا اور سب سے پہلے کعبہ کو غلاف پہنایا یا اس کے زمانہ میں غلاف پہنایا گیا۔ (فتح الباری، جلد 3، صفحہ 459، بیروت)
عمدۃ القاری میں ہے: أول من كساها عدنان بن أدد، و زعم الزبير أن أول من كساها الديباج عبد الله بن الزبير، و ذكر الماوردي: أن أول من كساها الديباج خالد بن جعفر بن كلاب ۔۔۔۔۔ و في كتاب ابن إسحاق: أول من حلاها عبد المطلب بن عبد مناف ۔۔۔ و عن ليث بن أبي سليم، قال: كانت كسوة الكعبة على عهد رسول الله، صلى الله عليه و سلم، الانطاع و المسوح. و قال ابن دحية: كساها المهدي القباطي و الخز و الديباج، و طلى جدرانها بالمسك و العنبر من أسفلها إلى أعلاها. و قال ابن بطال: قال ابن جريج: زعم بعض علمائنا أن أول من كساها إسماعيل، عليه السلام، و حكى البلاذري: أن أول من كساها الأنطاع عدنان بن أدد، و روى الواقدي عن إبراهيم بن أبي ربيعة، قال: كسي البيت في الجاهلية الأنطاع، ثم كساه رسول الله صلى الله عليه و سلم، الثياب اليمانية، ثم كساه عمر و عثمان القباطي، ثم كساه الحجاج الديباج. و قال ابن إسحاق: بلغني أن البيت لم يكس في عهد أبي بكر و عمر، يعني: لم يجدد له كسوة. و قال عبد الرزاق عن ابن جريج: أخبرت أن عمر، رضي الله تعالى عنه، كان يكسوها القباطي. و أخبرني غير واحد أن النبي صلى الله عليه و سلم كساها القباطي و الحبرات، و أبو بكر و عمر و عثمان، رضي الله تعالى عنهم، ۔۔۔۔۔۔ و كسيت في أيام الفاطميين الديباج الأبيض، و كساها السلطان محمود بن سبكتكين ديباجا أصفر، و كساها ناصر العباسي ديباجا أخضر، ثم كساها ديباجا أسود، فاستمر إلى الآن
یعنی سب سے پہلے جس نے کعبہ کو غلاف پہنایا وہ عدنان بن ادد ہے، اور زبیر نے گمان کیا کہ سب سے پہلے ریشم کا غلاف جس نے کعبہ کو پہنایا وہ عبداللہ بن زبیر ہیں، اور ماوردی نے ذکر کیا کہ سب سے پہلے ریشم کا غلاف جس نے کعبہ کو پہنایا وہ خالد بن جعفر بن کلاب ہے ۔۔۔ اور ابن اسحاق کی کتاب میں ہے: سب سے پہلے کعبہ کو جس نے زیور پہنایا وہ عبد المطلب بن عبد مناف ہیں ۔۔۔ اور لیث بن ابی سلیم سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے مبارک زمانہ میں کعبہ کا غلاف چمڑے اور اونی کپڑے کا ہوتا تھا اور ابن دحیہ نے کہا کہ مھدی نے کعبہ کو قباطی، ریشمی اونی اور ریشمی کپڑے کا غلاف پہنایا اور کعبہ کی دیواروں کی دیواروں پر اوپر سے نیچے تک مشک و عنبر ملاجاتا، اور ابن بطال نے کہا: ابن جریح نے فرمایا کہ ہمارے بعض علماء نے گمان کیا ہے کہ سب سے پہلے جس نے کعبہ کو غلاف پہنایا وہ اسماعیل علیہ السلام ہیں، اور بلاذری نے حکایت کیا کہ سب سے پہلے جس نے کعبہ کو چمڑے کا غلاف پہنایا وہ عدنان بن ادد ہے، اور واقدی نے ابراہیم بن ابی ربیعہ سے روایت کیا انہوں نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں بیت اللہ شریف کو چمڑے کا غلاف پہنایا گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کو یمنی کپڑے کا غلاف پہنایا، پھر عمر و عثمان رضی اللہ عنہ نے قباطی کپڑے کا غلاف پہنایا پھر حجاج نے ریشم کا غلاف پہنایا، اور عبد الرزاق نے ابن جریج کے حوالے سے کہا کہ مجھے خبر پہنچی کہ عمر رضی اللہ عنہ کعبۃ اللہ کو قباطی کپڑے کا غلاف پہناتے تھے، اور ایک سے زائد لوگوں نے مجھے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے قباطی اور یمنی کپڑے کا غلاف پہنایا اور ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنھم نے بھی ۔۔۔۔ اور فاطمیوں کے زمانہ میں سفید ریشمی کپڑے کا غلاف پہنایا، سلطان محمود بن سبکتکین نے پیلے رنگ کے ریشمی کپڑے کا غلاف پہنایا اور ناصر عباسی نے سبز رنگ کے ریشمی کپڑے کا غلاف پہنایا پھر اسے کالے رنگ کے ریشمی کپڑے کا غلاف پہنایا اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ (ملخص از عمدۃ القاری، جلد 9، صفحہ 234، بیروت)
جہاں تک غلاف پر سونے چاندی کی تار لگانے کا معاملہ ہے، تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ:
یت اللہ شریف شعائر اللہ ہے اور شعائر اللہ کی تعظیم کا حکم قرآن پاک میں موجود ہے بلکہ اسے دلوں کا تقوی قرار دیا گیا ہے اسی لیے بیت اللہ شریف کی عظمت کے اظہار کے لیے اس پر اعلی قسم کے غلاف چڑھائے جاتے ہیں جیسا کہ قرآن پاک کو غلاف میں رکھا جاتا ہے لہذا سونے چاندی، یا ریشم کے تار سے بنا ہوا غلاف چڑھانے میں کوئی حرج نہیں ہے معترض کا اعتراض بالکل بے جا اور غلط ہے کہ شرعا یہ جائز ہے پھر بیت اللہ شریف پر روزانہ کی بنیاد پر غلاف نہیں چڑھایا جاتا بلکہ سال میں ایک مرتبہ تبدیل کیا جاتا ہے جبکہ غریبوں کی مدد روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں لاکھوں لوگ کر رہے ہیں پھر لوگ اپنے آپ کو اور اپنے گھروں کو سجانے سنوارنے پر لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کر دیتے ہیں اس بارے میں کسی کو اعتراض نہیں سوجھتا لہذا ایسی بات کرنا کسی بنیاد پر بھی درست نہیں ہے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-1484
تاریخ اجراء: 18 شعبان المعظم 1444ھ / 11 مارچ 2023ء