logo logo
AI Search

مکہ کا رہائشی عمرہ کا احرام کہاں سے باندھے گا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مکہ میں رہنے والا عمرے کا احرام کہاں سے باندھے گا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں مکہ مکرمہ میں نوکری کرتا ہوں، کیا میں عمرے کے لئے احرام اپنے گھر سے ہی باندھ سکتا ہوں یا مسجدِ عائشہ جاکر احرام باندھنا ہوگا؟

جواب

مکہ مکرمہ یعنی حدودِ حرم میں رہنے والے اگر عمرہ ادا کرنا چاہیں تو ان کو حرم سے باہر جا کر احرام باندھنا ہوگا اور مسجدِ عائشہ سے احرام باندھنا ان کے لئے بہتر ہے۔ لہٰذا آپ بھی حدودِ حرم میں رہتے ہیں تو گھر سے عمرے کا احرام نہیں باندھ سکتے بلکہ حدودِ حرم سے باہر کسی مقام سے اور بہتر ہے کہ مسجدِ عائشہ سے عمرے کا احرام باندھیں۔

البتہ جو لوگ حل میں (میقات کے اندر اور حدودِ حرم سے باہر) رہنے والے ہیں ان کے لئے عمرے کے احرام میں حج کی طرح حکم یہ ہے کہ بیرونِ حرم کہیں سے بھی احرام باندھ سکتے ہیں اور گھر سے احرام باندھنا ان کے لئے افضل ہے۔

صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی لکھتے ہیں: جو لوگ میقات کے اندر کے رہنے والے ہیں مگر حرم سے باہر ہیں اُن کے احرام کی جگہ حل یعنی بیرونِ حرم ہے، حرم سے باہر جہاں چاہیں احرام باندھیں اور بہتر یہ کہ گھر سے احرام باندھیں اور یہ لوگ اگر حج یا عمرہ کا ارادہ نہ رکھتے ہوں تو بغیر احرام مکہ معظمہ جاسکتے ہیں۔ حرم کے رہنے والے حج کا احرام حرم سے باندھیں اور بہتر یہ کہ مسجد الحرام شریف میں احرام باندھیں اور عمرہ کا بیرونِ حرم سے اور بہتر یہ کہ تنعیم سے ہو۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 1068، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-39
تاریخ اجراء: 08 جمادی الاولی 1442ھ / 24 دسمبر 2020ء