نفلی طواف میں اضطباع کیا جائیگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نفلی طواف میں اضطباع کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
نفلی طواف میں بھی دایاں کاندھا ننگا کرکے طواف کرنا ہے، یا دایاں کاندھا ڈھانپ کر طواف کرسکتے ہیں؟
جواب
اضطباع (دایاں کاندھا ننگا کرنے) کے بارے میں اصول یہ ہے کہ: "ہر وہ طواف جس کے بعد سعی ہو، اور وہ احرام کی چادروں میں کیا جائے، تو اس میں اضطباع کیا جائے گا۔ اور عموماً جو نفلی طواف کیا جاتا ہے، اس کے بعد سعی نہیں ہوتی، اس لیے ایسے نفلی طواف میں کاندھا ننگا نہیں کریں گے۔ لباب و شرح لباب میں ہے ”(و هو) أي الاضطباع (سنة في كل طواف بعده سعي) كطواف القدوم و العمرة و طواف الزيارة على تقدير تأخير السعي، و بفرض أنه لم يكن لابساً فلا ينافي ما قال في «البحر» من أنه لا يسن في طواف الزيارة، لأنه قد تحلل من إحرامه و لبس المخيط، والاضطباع في حال بقاء الإحرام“ ترجمہ: اضطباع ہر اس طواف میں سنت ہے، جس کے بعد سعی ہو، جیسا کہ طواف قدوم (جبکہ اس کے بعد سعی کی جائے)، طواف عمر، ہ اور طواف زیارت جبکہ طواف زیارت کے بعد سعی ہو، اور سلے ہوئے کپڑے نہ پہنے ہوں، اور یہ اس کے منافی نہیں جو بحر میں کہا گیا ہے کہ طوافِ زیارت میں اضطباع مسنون نہیں کیونکہ اس صورت میں وہ احرام سے نکل کر سلے ہوئے کپڑے پہن چکا، جبکہ اضطباع احرام کی حالت میں ہوتا ہے۔ (لباب و شرح لباب، باب دخول مکۃ، ص 183، مطبوعہ: پشاور)
فتاوی رضویہ میں ہے "اضطباع یہ کہ چادر دہنے بغل کے نیچے سے نکال کر یہ آنچل بائیں شانے پر ڈالے جس میں دہنا کندھا کُھلا رہے۔ اور رمل یہ کہ طواف میں جلد جلد چھوٹے چھوٹے قدم رکھتا شانوں کو جنبش دیتا چلے۔ ف: یہ دونوں سنتیں خاص مردوں کے لیے ہیں وہ بھی صرف اس طواف میں جس کے بعد صفا مروہ میں سعی ہوتی ہے۔" (فتاوی رضویہ ، جلد 10 ، صفحہ 792، رضا فاؤنڈیشن ، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5009
تاریخ اجراء: 27 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 15 مئی 2026ء