logo logo
AI Search

کیا جمرات پر رمی کرنے کے لیئے وضو ہونا ضروری ہے؟

 

رمی کے لئے وضو ضروری ہے یا نہیں؟

مجیب:مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی

فتوی نمبر:Web-1735

تاریخ اجراء:25ذوالقعدۃالحرام1445ھ/03جون2024ء

دارالافتاء اہلسنت

(دعوت اسلامی)

سوال

   کیا جمرات پر رمی کرنےکے لیئے وضوہونا ضروری ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

   رمی جمرات کے لئے باوضو ہونا  لازم نہیں،البتہ مستحب یہ  ہے کہ  رمی کرنے والا باوضو ہو۔

   مخدوم ہاشم ٹھٹھوی رحمۃ اللہ علیہ رمی کے مستحبات بیان کرتے ہوئے  فرماتے ہیں : ”دویم طہارت  از حدثِ اصغر و اکبر “یعنی  رمی کا دوسرا مستحب یہ ہے کہ (رمی کرنے والا) حدث اصغر (بے وضو ہونے ) اور حدث اکبر سے پاک ہو (یعنی اس پر غسل فرض نہ ہو)۔(حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب ،باب دھم در رمی جمار،فصل در شرائط صحت رمی جمار ، صفحہ 314)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم