اضطباع کتنے چکروں میں کرنا ہے؟ طواف میں اضطباع کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عمرے کے طواف کے پہلے دو چکر میں اضطباع نہیں کیا، تو کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ عمرے کے طواف کے پہلے دو چکروں میں اضطباع کرنا یاد نہ رہا، پھر تیسرے چکر میں یاد آیا، تو اب دورانِ طواف اضطباع کیا جائے گا یا نہیں؟ یا دم دینا لازم ہوگا؟
جواب
اگر کوئی طوافِ عمرہ کے شروع کے پھیروں میں اضطباع کرنا بھول جائے، تو طواف کا ساتواں پھیرا مکمل ہونے سے پہلے پہلے جب بھی یاد آئے، دورانِ طواف ہی اضطباع کرلے، کیونکہ طوافِ عمرہ کے ساتوں پھیروں میں اضطباع سنت ہے، یہی اس کا محل مسنون ہے، جبکہ اس سے کم میں اضطباع کرنا خلافِ سنت و مکروہ ہے، لہٰذا بعض پھیروں میں اضطباع چھوٹ جانے کی وجہ سے بقیہ پھیروں میں بھی چھوڑنے کا حکم نہیں دیا جائے گا۔ نیز اس صورت میں کسی قسم کا کوئی کفارہ (دم، صدقہ) لازم نہیں۔
شرح اللباب میں ہے:
سنن الطواف الاضطباع ای في جميع اشواط الطواف الذی سن فیہ کما صرح بہ ابن الضیاء
ترجمہ: طواف کی سنتوں میں سے ایک سنت اضطباع ہے یعنی جس طواف میں اضطباع سنت ہے تو اس کے تمام پھیروں میں سنت ہے۔ جیسا کہ اس کی صراحت ابن ضیاء علیہ الرحمۃ نے کی ہے۔ (شرح اللباب، فصل فی سنن الطواف، صفحہ 176، دار الکتب العلمیہ)
رد المحتار میں ہے:
إن محله المسنون قبيل الطواف إلى انتهائه لا غير
ترجمہ: اضطباع کا محل مسنون طواف سے کچھ پہلے سے آخرِ طواف تک ہے، اس کے علاوہ نہیں۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 02، ص 481، دار الفکر)
بہار شریعت میں ہے: طواف کے ساتوں پھیروں میں اِضطباع سنت ہے اور طواف کے بعد اِضطباع نہ کرے۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 6، صفحہ 1101، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0395
تاریخ اجراء: 03 محرم الحرام 1446ھ / 10 جولائی 2024ء