logo logo
AI Search

اگر کوئی عمرہ کا دم ادا نہ کرے تو کیا حکم ہوگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عمرہ میں لازم ہونے والا دم ادا نہ کیا اور وطن واپس آگئے تو کیا حکم ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

عمرہ میں لازم ہونے والا دم اگر ادا نہیں کیا اور پاکستان واپس آگئے، تو اب کیا حکم ہوگا اور اگر کوئی دم ادا ہی نہ کرے، تو اس پر کیا حکم ہوگا؟

جواب

عمرے میں دَم واجب ہونے سے مراد کسی جنایت کی وجہ سے بکرے، بکری یا بھیڑ وغیرہ کی قربانی واجب ہونا ہے۔ اگر کسی پر دَم واجب ہوا تو اس پر دَم کی ادائیگی واجب ہوگی، ہاں فوری ادائیگی واجب نہیں بلکہ تاخیر کرنا بھی جائز ہے البتہ بہتر یہ ہے کہ فوراً ادا کر دے، اور اگر ایسی حالت ہوجائے کہ زندہ رہنےکی امید نہ رہے تو اب فوری ادا کردے کہ اگر بلا عذر شرعی ادا کیے بغیر مرگیا تو گناہگار ہوگا لہٰذا ادا کردے یا ورثاء کو اپنی طرف سے دَم ادا کرنے کی وصیت کرجائے اور اگر اس نے وصیت نہیں کی تو ورثاء اپنی طرف سے بھی اس پر لازم آنے والا دَم ادا کر سکتے ہیں نیز کفارے کی قربانی حرم ہی میں کی جاسکتی ہے، پاکستان وغیرہ، غیر حرم میں نہیں ہوسکتی۔ اگر اب حرم میں خود جاکر ادا نہیں کرسکتا تو کسی کو رقم دے کر حرم میں دَم ادا کرنے کے لیے وکیل کردے اور وہ شخص حرم میں اس کی طرف سے دَم ادا کردے۔ (فتاوی حج و عمرہ، حصہ 1، صفحہ 116) (ارشاد الساری الی مناسک علی القاری، صفحہ 423، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-794
تاریخ اجراء: 11 جمادی الاوّل 1444ھ / 06 دسمبر 2022ء