میت کی طرف سے حج بدل کا حکم اور حج بدل کی شرائط
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مرحوم کی وصیت کے بغیر اس کی طرف سے حج بدل کروانا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے والد صاحب پر حج فرض تھا، لیکن انہوں نے حج نہیں کیا اور فوت ہو گئے اور حج کے لیے وصیت بھی نہیں کی۔ اب کیا ورثا ان کی طرف سے حجِ بدل کر سکتے ہیں یا کسی کے ذریعے کرواسکتے ہیں؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں والد صاحب کے فرض حج کے بدلے میں ان کی طرف سے کسی وارث کا حجِ بدل کرنا یا ورثا کا کسی اور شخص کو حجِ بدل کے لیے بھیجنا، جائز اور عظیم اجر و ثواب کا کام ہے، لہٰذا ورثا کو یہ نیکی ضرور کرنی چاہیے، اگرچہ والد صاحب نے حجِ بدل کی وصیت نہیں کی تھی، لیکن اللہ پاک کی رحمت سے امید ہے کہ وہ حج ان کے فرض حج کا بدل ہو جائے اور ان کی طرف سے فرض حج ادا ہو جائے۔
بہتر یہ ہے کہ حجِ بدل کرنے والا شخص متقی و پرہیز گار ہو، حج کے مسائل جانتا ہو اور اپنی طرف سے حج ادا کرچکا ہو، تاکہ ارکانِ حج مکمل اور درست طریقے سے ادا کرسکے، لیکن ایسے شخص کو بھیجنا بھی جائز ہے، جس نے پہلے حج نہ کیا ہو اور اس پر حج بھی فرض نہ ہو۔ البتہ جس شخص پر حج فرض ہوچکا ہو اور اس نے ابھی تک ادا نہ کیا ہو، تو جان بوجھ کر اسے حجِ بدل کے لیے بھیجنا مکروہِ تحریمی اور گناہ ہے۔
فتاوی عالمگیری میں حجِ بدل کی شرائط سے متعلق ہے:
منھا:الامر بالحج، فلا یجوز حج الغیر عنہ بغیر امرہ، الا الوارث یحج عن مورثہ بغیر امرہ، فانہ یجزیہ
ترجمہ: حجِ بدل کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ (جس کی طرف سے کیا جائے، اُس نے) حج کا حکم دیا ہو، لہٰذا اس کے حکم کے بغیر اس کی طرف سے کسی دوسرے کا حج کرنا، درست نہیں ہوگا، سوائے اِس کے کہ وارث اپنے مورِث (مرحوم) کی طرف سے اس کے حکم کے بغیر کرلے، تو ادا ہو جائے گا۔ (الفتاوی العالمگیریۃ، ج 1، ص 283، مطبوعہ کراچی)
اسی میں دوسری جگہ ہے:
مَن علیہ الحج اذا مات قبل ادائہ، فان مات عن غیر وصیۃ یأثم بلا خلاف، و ان احب الوارث ان یحج عنہ حج و ارجو ان یجزئہ ذلک ان شاء اللہ تعالٰی، کذا ذکر اَبو حَنیفۃَ رَحِمَہُ اللہُ تعالی
ترجمہ: جس پر حج فرض ہو اور ادا کرنے سے پہلے فوت ہو جائے، اگر (حج کی) وصیت کیے بغیر مرا، تو وہ بالاتفاق گنہگار ہے۔ اگر وارث اُس کی طرف سے حجِ بدل کرانا چاہے، تو کراسکتا ہے اور امید ہے کہ ان شاء اللہ الکریم اس کی طرف سے ادا ہو جائے، اِسی طرح امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔ (الفتاوی العالمگیریۃ، ج 1، ص 285، مطبوعہ کراچی)
حجِ بدل کے لیے کس شخص کو بھیجنا بہتر ہے، اس بارے میں الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:
و الاولٰى ان يختار رجلا حرا عاقلا بالغا قد حج، عالما بطريق الحج و افعاله، ليقع حجه على اكمل الوجوه
ترجمہ: اور بہتر یہ ہے کہ حج کے لیے ایسے شخص کا انتخاب کرے، جو آزاد، عاقل، بالغ ہو، پہلے حج کر چکا ہو اور حج کے راستے اور اُس کے افعال (کاموں) کو جانتا ہو، تاکہ اس کا حج کامل طریقے سے ادا ہو جائے۔ (الاختیار لتعلیل المختار، ج 1، ص 220، مطبوعہ کراچی)
امامِ اہلِسنت، سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: اگر حضرت کی والدہ ماجدہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا پر۔۔۔۔۔ اُس سال سے پہلے (حج) فرض ہو چکا تھا، تو البتہ حجِ فرض ان پر باقی رہا۔ حضرت ان کی طرف سے ادا فرمائیں یا ادا کرا دیں، تو اجرِ عظیم ہے۔۔۔ حجِ بدل یعنی نیابۃً دوسرے کی طرف سے حجِ فرض ادا کرنا کہ اُس پر سے اِسقاطِ فرض کرے، اِن شرائط سے مشروط ہے: ۔۔۔ یہ حج باَمر محجوج عنہ ہو۔ بلا اجازت دوسرے کی طرف سے حج کافی نہ ہوگا، مگر جبکہ وارث اپنے مورث (مرحوم) کی طرف سے حج کرے یا کرائے، لقیامہ مقامَہ خِلافۃ۔ ملخصا (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 659، 660، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
اِس سوال کہ ایک خوشحال شخص اپنی متوفیٰ بیوی کی طرف سے (جو دولت مند تھیں اور شوقِ حج کا مصمم ارادہ رکھتی تھیں) حج بدل کرانا چاہتے ہیں۔۔۔ حج بدل کرنے والے کو خاص مکہ معظمہ میں وہاں کا زمانہ حج کا خرچ دے کر مقرر کرلینا کافی ہے یا نہیں؟ کے جواب میں امامِ اہلِسنت، سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: حج عبادتِ بدنی اور مالی دونوں سے مرکب ہے، جس پر حج فرض تھا اور معاذ اللہ بے کیے مرگیا، ظاہر ہے کہ بدنی حصہ سے تو عاجز ہو گیا۔ رب عزوجل کی رحمت کہ صرف مالی حصّہ سے اس کی طرف سے حجِ بدل قبول فرماتا ہے، جبکہ وہ وصیت کرجائے اور رحمت پر رحمت یہ کہ وارث کا حج کرانا بھی قبول فرمایا جاتا ہے، اگرچہ میّت نے وصیت نہ کی۔ حجِ بدل والے کو اُسی شہر سے جانا چاہئے، جو شہر میت کا تھا تاکہ مالی صَرف پورا ہو، مکہ معظمہ سے حج کرادینا اِس میں داخل نہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 661، 662، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حجِ بدل کے لیے چند شرطیں ہیں:۔۔۔ (4) جس کی طرف سے کیا جائے، اُس نے حکم دیا ہو، بغیر اُس کے حکم کے نہیں ہو سکتا۔ ہاں وارث نے مورث(مرحوم) کی طرف سے کیا، تو اِس میں حکم کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔ جس پر حج فرض ہے اورنہ ادا کیا، نہ وصیت کی، تو بالا جماع گنہگار ہے۔ اگر وارث اُس کی طرف سے حجِ بدل کرانا چاہے، تو کراسکتا ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ امید ہے کہ ادا ہو جائے۔ (بھارِ شریعت، ج 1، ص 1201 ۔ 1206، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں: بہتر یہ ہے کہ حجِ بدل کے لیے ایسا شخص بھیجا جائے، جو خود حَجۃ الاسلام (حجِ فرض) ادا کر چکا ہو اور اگر ایسے کو بھیجا، جس نے خود نہیں کیا ہے، جب بھی حجِ بدل ہو جائے گا اور اگر خود اس پر حج فرض ہو اور ادا نہ کیا ہو، تو اسے بھیجنا مکروہِ تحریمی ہے۔ (بھارِ شریعت، ج 1، ص 1203، 1204، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: AQS- 2642
تاریخ اجراء: 01 محرم الحرام 1446ھ / 08 جولائی 2024ء