logo logo
AI Search

الیکٹرانک وہیل چیئر پہ بیٹھ کر سعی کرنے کا کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وہیل چیئر پر صفا و مروی کے درمیان سعی کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

عمرہ کرتے ہوئے الیکٹرانک وہیل چیئر پہ بیٹھ کر سعی کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

سعی پیدل کرنا واجب ہے اور بلا عذر وہیل چیئر پر سعی کرنا ترکِ واجب ہے جس سے دَم واجب ہوتا ہے، ہاں عذر ہو تو جائز ہے۔

علامہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ لباب المناسک میں واجبات سعی میں سے دوسرا واجب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”و المشی فیہ فان سعی راکبا او محمولا او زحفا بغیر عذر فعلیہ دم و لو بعذر فلا شیئ علیہ“ یعنی سعی میں پیدل چلنا (واجب ہے)، لہٰذا اگر کسی نے بلاعذر سوار ہوکر سعی کی یا اس طرح سعی کی کہ کسی نے اس کو اٹھایا ہوا تھا یا گھسٹتے ہوئے سعی کی، تو اس پر دم لازم ہے اور اگر عذر کی وجہ سے کی، تو اس پر کوئی چیز لازم نہیں۔ (لباب المناسک، صفحہ 128، دار قرطبۃ، بیروت)

بہار شریعت میں ہے: سعی میں پیدل چلنا واجب ہے جب کہ عذر نہ ہو، لہٰذا اگر سواری یا ڈولی وغیرہ پر سعی کی یا پاؤں سے نہ چلا بلکہ گھسٹتا ہوا گیا تو حالتِ عذر میں معاف ہے اور بغیر عذر ایسا کیا تو دَم واجب ہے۔ (بہار شریعت، ج 1، ص 1109، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-875
تاریخ اجراء: 05 رمضان المبارک 1444ھ / 27 مارچ 2023ء