رات کو جھاڑو لگانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
رات کو جھاڑو دینا کیسا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ رات کو جھاڑو دینا کیسا ہے؟
جواب
رات کو جھاڑو نکالنا (لگانا) ایک جائز کام ہے، اس کو کسی نے ناجائز نہیں کہا کہ رات میں جھاڑو دینا گناہ قرار پائے۔ ہاں بزرگانِ دِین رحمۃُ اللہ علیہم نے رات میں جھاڑو نکالنے کو تنگدستی اور غربت آنے کا سبب لکھا ہے، ممکن ہے یہ ان کا مشاہدہ ہو یا ان تک یہ بات پہنچی ہو اور ہمارے بزرگانِ دین کی پیروی ہی میں ہماری عافیت ہے۔ لیکن یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ مؤثرِ حقیقی اللہ عزوجل ہے، اور ہر نفع و نقصان کی کنجی اسی کے دستِ قدرت میں ہے،وہ چاہے کرے، چاہے نہ کرے، اس سے کوئی باز پُرس کرنے والا نہیں۔
رزق میں تنگدستی کےاسباب بیان کرتے ہوئے علامہ برہان الدین ابراہیم زرنوجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ( متوفی: 610ھ) اپنی کتاب ’’تعلیم المتعلم‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’و النوم عریاناً۔ ۔ ۔ و کنس البیت فی اللیل بالمندیل (و فی نسخۃ: کنس البیت باللیل و المندیل) و ترک القمامۃ فی البیت‘‘ یعنی ننگے سونا۔ ۔ ۔ گھر میں رومال سے یا رات میں جھاڑو دینا ، کوڑا گھر ہی میں چھوڑدینا (یہ سب رزق میں تنگدستی کے اسباب ہیں)۔ (تعلیم المتعلم فی طریق التعلم، فصل فیما یجلب الرزق . . . الخ، صفحہ 132 - 133، مطبوعہ دار ابن کثیر، ملتقطاً)
مؤثر حقیقی اللہ پاک کی ذات ہے، باقی بزرگوں سے رزق میں تنگدستی کے اسباب منقول ہیں، حتی الامکان ان کی پیروی چاہئے جیسا کہ خلیلِ ملت مفتی خلیل احمد قادری برکاتی رحمۃ اللہ علیہ ’’سنی بہشتی زیور‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’کتب متداولہ میں جو اسباب کہ انسان کو مفلس کر دیتے ہیں، بکثرت لکھے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ان اسباب میں وہ بھی ہیں جن کا ذکر قرآن و حدیث میں ملتا ہے، اور اکثر و بیشتر وہ ہیں جو اکابر ملت و رہنمایانِ شریعت نے اپنے اپنے مشاہدے اور تجربے سے دریافت کئے تو جو ان اسباب سے اپنے آپ کو دور رکھے گا خود ہی فائدہ اٹھائے گا، اور جو ان میں ملوث ہوگا وہ خود دیکھ لے گا کہ اس نے کہا کھویا، کیونکر کھویا، ہاں آدمی یہ کبھی نہ بھولے کہ موثر حقیقی اللہ عزوجل ہے، اور ہر نفع و نقصان کی کنجی اسی کے دستِ قدرت میں ہے، وہ چاہے کرے اس سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں۔ وہ اسباب یہ ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شب میں جھاڑ و دینا، خصوصاً کپڑے سے جھاڑنا۔‘‘ (سنی بہشتی زیور، ص 599 - 600، مطبوعہ فرید بک اسٹال لاہور، ملتقطاً)
مدنی مذاکرہ میں بذریعہ ایس ایم ایس کئے گئے اسی طرح کے سوال کے جواب میں قبلہ امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: ’’اگرچہ بعض بزرگوں نے رات میں جھاڑو دینے کو تنگدستی کے اسباب میں شمار کیا ہے، مگر اسے ناجائز کسی نے بھی نہیں کہا کہ رات میں جھاڑو دینا گناہ قرار پائے، لہذا رات میں جھاڑودینا شرعاً جائز ہے۔ (چور بازار سے چیزیں خریدنا کیسا (ملفوظاتِ امیر اہلسنت، قسط 27)، ص 17، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتوی نمبر: FatwaQA-047
تاریخ اجراء: 20 ربیع الاول 1448ھ / 03 ستمبر 2026ء