امانت میں خیانت کرنے کا کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
امانت میں خیانت وغیرہ کے متعلق حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
امانت میں خیانت کرنے کا کیا حکم ہے؟ اور جس کے پاس امانت ہو، اس نے استعمال کر لی ہو تو کیا حکم ہے؟
جواب
امانت میں خیانت نا جائز و حرام اورجہنم میں لے جانے والا کام ہے، اور جس کے پاس امانت تھی، وہ مالک کی اجازت کے بغیر اسے اپنے صرف میں لے آیا، تو اس پر توبہ و استغفار فرض ہے اور تاوان لازم۔
اللہ عزوجل ارشادفرماتاہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (القرآن، سورۃ الانفال، پارہ9، آیت: 27)
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب وإذا وعد أخلف و إذا اؤتمن خان
ترجمہ: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب وعده کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ (صحیح البخاری، صفحہ 1119، حدیث: 6095، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: کسی کی امانت اپنے صرف میں لانا اگرچہ قرض سمجھ کر ہو حرام و خیانت ہے توبہ و استغفار فرض ہے اور تاوان لازم۔ (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 489، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: ہندہ نے اپنا روپیہ اس کے پاس جمع کیا تھا تو یہ قرض نہ تھا ودیعت تھا۔۔۔ زید نے بلا اجازتِ ہندہ اسے تجارت میں لگا دیا تو زید غاصب ہوگیا اس پر تاوان آیا۔ (فتاوی رضویہ، جلد19، صفحہ 165، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4672
تاریخ اجراء: 30 رجب المرجب1447ھ / 20 جنوری2026ء